رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کی مکخواں سے ملاقات، یورپی سکیورٹی کے معاملے پر گفتگو


ہفتے کے روز ملاقات میں امریکی اور فرانسیسی صدور نے یورپی سکیورٹی سے متعلق اپنے اختلافات کے بارے میں گفتگو کی۔ پیرس آمد کے فوری بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے میزبان پر نکتہ چینی کی تھی۔

ایلسی پیلیس میں ملاقات کے آغاز پر ہی امریکی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ کے دفاع پر آنے والی لاگت میں مناسب حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ کے بقول ''ہم مضبوط یورپ کے خواہاں ہیں''۔

اس کے جواب میں امانوئیل مکخواں نے کہا کہ ''میں اِس رائے کا ہوں کہ یورپ کے پاس کافی استعداد کی ضرورت ہے اور یورپ کے دفاع کے لیے مزید طاقت ہونی چاہیئے''۔

تاہم، دونوں سربراہان نے، کم از کم اُس وقت تک جب تک اخباری نمائندے کمرے میں موجود تھے، ایک دوسرے پر تنقید سے احتراز کیا۔

ایئرفورس ون طیارہ جمعے کی رات اورلے ایئرپورٹ پر اترا۔ اترتے ہی ٹرمپ نے اپنے میزبان کو سخت پیغام بھیجا، جس میں اُنھوں نے مکخواں کی جانب سے یورپی یونین سے متعلق بات کرنے کو ''انتہائی توہین آمیز'' قرار دیا۔

پیرس پہنچنے پر اپنے ٹوئیٹ میں ٹرمپ نے مشورہ دیا کہ یورپ میں فوج تشکیل دینے کا خیال ذہن میں لانے سے پہلے یورپ کو نیٹو پر اٹھنے والے اخراجات کا ''مناسب حصہ ادا کرنا چاہیئے''۔

پہلی جنگ عظیم کے محاذ، وردون کے دورے کے دوران، مکخواں نے 'یورپ ون ریڈیو' کو انٹرویو دیتے ہوئے روس سے متعلق نئے خدشات کے بارے میں کہا تھا کہ یورپ کو ''بہتر دفاع کی ضرورت ہے''، اور ''اصل یورپی فوج'' کے بغیر یورپی اپنے آپ کو محفوظ نہیں کر پائیں گے۔

انٹرویو میں مکخواں نے ٹرمپ کے حالیہ اعلان پر بھی سخت تنقید کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ 1987ء کے انٹرمیڈیٹ رینج کی نیوکلیئر فورسز کے معاہدے سے الگ ہوجائے گا؛ جس جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے سمجھوتے پر امریکی صدر رونالڈ ریگن اور سویت جنرل سکریٹری میخائل گوباچوف نے اتفاق کیا تھا۔

مکخواں نے دلیل دی کہ اس قسم کے انخلا کی ''اصل شکار یورپ اور اس کی سلامتی'' ہوگی۔

تاہم، فرانس کے اہلکاروں نے وضاحت دیے بغیر کہا ہے کہ ٹرمپ کے ذہن میں مکخوان کے بیان سے معلق تاثر درست نہیں تھا۔ اُنھوں نے توجہ دلائی کہ ہفتے کے روز ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے فرانسیسی ہم منصب کو بتایا کہ ''میرے خیال میں، یوں لگتا ہے کہ ہماری سوچ ایک ہی ہے''۔

فرانسیسی صدر نے مزید کہا تھا کہ یورپ کو اپنا دفاع کرنا ہے، ''چاہے یورپ، روس حتیٰ کہ متحدہ ریاست ہائے امریکہ ہی کیوں نہ ہو''۔

یورپی فورس

نو یورپی ملکوں کے وزرائے دفاع اِس بات پر گفت و شنید کر رہے ہیں آیا ایسی نئی بین الاقوامی فوج کا دائرہ کار کیا ہوگا۔

یورپی سربراہان ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات کی مد میں اربوں ڈالر اضافی ادا کرنے کے مطالبے کو خطرے کی علامت سمجھتے ہیں کہ شاید امریکہ تقریباً 70 برس پرانے اتحاد سے الگ ہوجائے گا۔

لیکن، جرمنی اور برطانیہ یورپی فوج کی تجویز کے خاص حامی نہیں ہیں۔ سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار سوال اٹھاتے ہیں آیا یورپی ملکوں کے پاس عزم، رقوم اور دفاعی اسلحہ ہے جس سے امریکہ کی طاقت کا متبادل بنا جائے۔

'یورپین ڈفینس کمیونٹی' کی اصل تجویز ابتدائی طور پر سال 1950 میں برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پیش کی تھی، جسے فرانسیسی پارلیمان نے مسترد کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG