رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ اردوان ملاقات، شام کے معاملے پر بات چیت کا امکان


فائل

ترک صدر رجب طیب اردوان اپنے امریکی ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات فرانس میں پہلی جنگ عظیم کی یادگار تقاریب کے اجلاس کی عمارت کے احاطے سے باہر ہوگی۔

یہ ملاقات ایسے میں ہو رہی ہے جب تعلقات کشیدہ رہنے کے بعد نیٹو کے دونوں اتحادی ملاقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پالیسی نوعیت کی کئی ایک نااتفاقیوں کے باعث اُن کے باہمی تعلقات میں کافی سرد مہری آچکی ہے۔ تاہم، ترک عدالت کی جانب سے گذشتہ ماہ امریکی پادری، اینڈریو برنسن کی رہائی اور اُن کی وطن واپسی، تعلقات کا پانسہ پلٹنے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔

ایران پر تعزیرات کے معاملے پر امریکہ نے ترکی کو چھ ماہ کا استثنیٰ دیا ہے، جو قربت پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے معاملے پر بھی ترکی سے قریبی تعاون بڑھا ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’’ہم کانگریس کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ترکی سے رابطے میں ہیں اور سعودی عرب سے بات کر رہے ہیں‘‘۔

اس کے علاوہ، متوقع طور پر ترکی کے ہمسائے شام کا معاملہ دونوں سربراہان کی بات چیت میں اولیت کا حامل ہوگا۔

داعش کے خلاف لڑائی میں، شامی کرد ملیشیا کو امریکی فوج کی اعانت حاصل ہے؛ جو معاملہ باہمی تعلقات میں دوری کا باعث ہے۔

ترکی ’وائی پی جی ملیشیا‘ اور اُس کے سیاسی شعبے، ’پی وائی ڈی‘ کو ممنوعہ ’پی کے کے‘ کا دھڑا خیال کرتا ہے، جو کئی عشروں سے ترکی کے اندر بغاوت میں ملوث رہا ہے۔ ترکی، یورپی یونین اور امریکہ نے ’پی کے کے‘ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG