رسائی کے لنکس

ٹرمپ نے ہفتوں سے جاری غیر یقینی صورت حال ختم کر دی ہے، آیا اُنھوں نے وائٹ ہاؤس میں کومی کے ساتھ ہونے والی دو نجی ملاقاتوں کو ٹیپ کرایا تھا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اُنھوں نے فیڈریل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سابق سربراہ، جمیز کومی کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو ریکارڈ نہیں کی، جنھیں صدر نے برطرف کردیا تھا۔

کومی نے کہا تھا کہ صدر نے اُن سے کہا تھا کہ گذشتہ سال کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کے بارے میں ادارے کی جانب سے جاری تفتیش کو ختم کیا جائے۔

ٹرمپ نے ہفتوں سے جاری غیر یقینی صورت حال ختم کر دی ہے، آیا اُنھوں نے وائٹ ہاؤس میں کومی کے ساتھ ہونے والی دو نجی ملاقاتوں کو ٹیپ کرایا تھا۔

اِن میں سے ایک وائٹ ہاؤس میں کومی کے ساتھ رات کا نجی کھانا تھا، جو جنوری میں صدارتی عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد ہوا؛ جس میں کومی سے وفاداری کے عہد کی بات کی گئی، جس سے کومی نے انکار کیا۔ دوسری ملاقات وسط فروری میں ہوئی۔

گذشتہ ماہ، کومی نے سینیٹ کے ایک پینل کو بتایا کہ صدر نے اُن سے کہا کہ اُنھیں امید ہے کہ وہ قومی سلامتی کے سابق مشیر مائیکل فلن کے خلاف تفتیش اور اُن کے واشنگٹن میں تعینات روسی سفیر کے ساتھ رابطوں کے بارے میں چھان بین کے معاملے کو ’’رہنے دیں گے‘‘۔

ٹرمپ نے فلن کو عہدے سے فارغ کر دیا تھا، جب اُنھیں یہ معلوم ہوا کہ اُنھوں نے روس کے سفیر سرگئی کسلیاک کے بارے میں نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ دروغ گوئی سے کام لیا تھا۔

آج دوپہر ایک ٹوئٹر بیان میں، ٹرمپ نے تحریر کیا ہے ’’الیکٹرانک نگرانی، ’انٹرسیپٹس‘، راز افشا کرنے اور اطلاعات کی غیر قانونی ’لیکنگ‘ کی حالیہ رپورٹوں کے باوجود، مجھے علم نہیں، آیا جمیز کومی کے ساتھ میری گفتگو کے ’ٹیپس‘ کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ لیکن، میں نے اسے ٹیپ نہیں کرایا، میرے پاس ایسی ریکارڈنگ موجود نہیں ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG