رسائی کے لنکس

logo-print

'ایف بی آئی' نے جج کیوینو پر الزام کی تحقیقات کا آغاز کر دیا


بریٹ کیوینو

ایف بی آئی نے سپریم کورٹ کے نامزد جج بریٹ کیوینو کے خلاف نئی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

سینیٹ کی جوڈیشنل کمیٹی کی درخواست پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تفتیش کا حکم جاری کیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کو حکم دیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے نامزد جج بریٹ کیوینو کے خلاف دست درازی کے الزام کی تحقیقات کرے۔

تحقیقات ایک ہفتے میں مکمل کی جائیں گی اور ان کی رپورٹ سامنے آنے تک سینیٹ نے جج کیوینو کی نامزدگی کی توثیق کا عمل ملتوی کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے جج کیوینو کی جانب سے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں 'ایف بی آئی' کے ساتھ تعاون کریں گے۔

کیوینو پر دست درازی کا الزام عائد کرنے والی یونیورسٹی پروفیسر کرسٹین بلیسی فورڈ کی وکیل ڈیبرا کیٹز نے معاملے کی تحقیقات 'ایف بی آئی' کے حوالے کیے جانے کا خیرمقدم کیا ہے اور ان سینیٹرز کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے یہ ممکن بنایا۔

لیکن وکیل نے تحقیقات ایک ہفتے میں مکمل کرنے کے حکم پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متعلقہ شواہد سامنے لانے کے لیے معاملے کی تفصیلی تحقیقات ضروری ہیں۔

جوڈیشری کمیٹی کے رکن سینیٹر جیف فلیک جنہوں نے نامزدگی کی توثیق کے لیے اپنا ووٹ 'ایف بی آئی' کی تحقیقات سے مشروط کیا۔
جوڈیشری کمیٹی کے رکن سینیٹر جیف فلیک جنہوں نے نامزدگی کی توثیق کے لیے اپنا ووٹ 'ایف بی آئی' کی تحقیقات سے مشروط کیا۔

جج کیوینو کی نامزدگی کی توثیق سے قبل 'ایف بی آئی' سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ ریاست ایریزونا سے ری پبلکن سینیٹر جیف فلیک نے جمعے کو کیا تھا جو سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔

جمعے کو جوڈیشری کمیٹی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں سینیٹر فلیک نے کہا تھا کہ وہ اس شرط پر بریٹ کیوینو کی نامزدگی کی توثیق کر رہے ہیں کہ سینیٹ میں ان کی توثیق کے لیے ووٹنگ سے قبل 'ایف بی آئی' سات روز میں ان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کرے۔

سینیٹ کی 21 رکنی جوڈیشری کمیٹی نے جمعے کو اپنے اجلاس میں جج کیوینو کی 10 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے توثیق کردی تھی۔

کمیٹی کے تمام ڈیموکریٹ ارکان نے کیوینو کی مخالفت جب کہ تمام ری پبلکن نے حمایت میں ووٹ دیا تھا۔

لیکن کمیٹی کے دو دیگر ری پبلکن ارکان سینیٹر لیزا مرکاؤسکی اور سینیٹر سوزن کولنز نے بھی جیف فلیک کے مطالبے کی حمایت کی تھی جس کے بعد یہ خدشہ پیدا ہوگیا تھا کہ اگر ری پبلکن قیادت نے ان تینوں سینیٹرز کی بات نہ مانی تو شاید وہ سینیٹ میں جج کیوینو کی مخالفت میں ووٹ دے دیں۔

سو رکنی امریکی سینیٹ میں ری پبلکن کے ارکان کی تعداد 51 جب کہ ڈیموکریٹس کی 49 ہے اور ایسے میں ری پبلکن زیادہ سے زیادہ ایک ووٹ کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں۔

ایوان میں کسی معاملے پر ووٹنگ میں ٹائی ہونے کی صورت میں نائب صدر مائیک پینس ووٹ کاحق استعمال کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

اب تک کسی بھی ڈیموکریٹ رکن نے جج کیوینو کی نامزدگی کی توثیق کا اعلان نہیں کیا ہے جس کا مطلب ہے کہ ری پبلکنز کو نامزدگی کی توثیق کے لیے کم از کم 50 ارکان کا ووٹ درکار ہوگا۔

جج کیوینو پر کرسٹین بلیسی فورڈ کے الزام گزشتہ ہفتے سامنے آئے تھے جس کے بعد سے ڈیموکریٹ ارکان کیوینو کی نامزدگی کی توثیق موخر کرکے معاملے کو تحقیقات کے لیے 'ایف بی آئی' کے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

لیکن صدر ٹرمپ اور ری پبلکن قیادت نے ڈیموکریٹس کا یہ مطالبہ مسترد کردیا تھا۔ لیکن ری پبلکنز کے اندر سے اس معاملے پر آوازیں اٹھنے کے بعد ری پبلکن قیادت سینیٹ میں فائنل ووٹنگ سے قبل اس معاملے کی تحقیقات پر آمادہ ہوگئی ہے۔

سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے اجلاس کا منظر
سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے اجلاس کا منظر

صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے ری پبلکنز کی درخواست پر جج کیوینو پر لگائے جانے والے الزام کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

صدر کے ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ صرف لگائے جانے والے الزام تک محدود ہوگا اور اسے ایک ہفتے کے اندر مکمل کیا جائے گا۔

کرسٹین بلیسی فورڈ کا الزام ہے کہ بریٹ کیوینو نے انہیں اس وقت جنسی طور پر ہراساں کیا تھا جب وہ دونوں 36 سال قبل ہائی اسکول کے طالبِ علم تھے۔

بلیسی فورڈ کی عمر 51 سال ہے اور وہ ریاست کیلی فورنیا کی ایک یونیورسٹی میں نفسیات کی پروفیسر ہیں۔

پروفیسر فورڈ نے گزشتہ ہفتے 'واشنگٹن پوسٹ' کو ایک انٹرویو کے دوران بتایا تھا کہ 1982ء میں میری لینڈ میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران بریٹ کیوینو نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی تھی لیکن وہ انہیں دھکا دے کر موقع سے بھاگنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

کمیٹی کے ری پبلکن ارکان فائنل ووٹ سے قبل مشاورت میں مصروف ہیں۔
کمیٹی کے ری پبلکن ارکان فائنل ووٹ سے قبل مشاورت میں مصروف ہیں۔

تریپن سالہ جسٹس بریٹ کیوینو واشنگٹن ڈی سی کی کورٹ آف اپیل کے جج ہیں جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے جج انتھونی کینیڈی کی ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ کا جج نامزد کیا تھا۔

پروفیسر فورڈ کے منظرعام پر آنے سے قبل تک جج کیوینو کی نامزدگی کی توثیق میں کوئی رکاوٹ نظر نہیں آ رہی تھی اور ری پبلکنز کی کوشش تھی کہ وہ یکم اکتوبر کو شروع ہونے والی عدالتی سال سے قبل ہی اپنے عہدے کا حلف اٹھالیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG