رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ نے ولیم بر کو امریکہ کا نیا اٹارنی جنرل نامزد کردیا


فائل

وائٹ ہاؤس کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ بَر ’’پہلے دن ہی سے میری پہلی پسند رہے ہیں‘‘؛ اور ’’وہ انتہائی مؤثر، اچھے اور ایک قابل شخص ہیں‘

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا ہے کہ محکمہٴ انصاف کی سربراہی کے لیے اُنھوں نے ایک بار پھر سابق امریکی اٹارنی جنرل ولیم بر کا انتخاب کیا ہے، جس فیصلے کے نتیجے میں انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر وفاقی تفتیش کے حوالے سے وہ فیصلہ کُن کردار کے مالک بن جائیں گے۔

اگر سینیٹ نامزدگی کی تصدیق کرتی ہے تو بَر یہ عہدہ سنبھالیں گے، جو اِس وقت میتھیو وٹکر کے پاس ہے، جو قائم مقام کے طور پر عہدے کے فرائض انجام دے رہے ہیں؛ چونکہ ایک ماہ قبل ٹرمپ نے جیف سیشنز کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ وٹکر سیشنز کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے باہر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا ہے کہ بر ’’پہلے دن ہی سے میری پہلی پسند رہے ہیں‘‘؛ اور ’’وہ انتہائی مؤثر، اچھے اور ایک قابل شخص ہیں‘‘۔

بر ایک قانون دان ہیں۔ آنجہانی صدر جارج ایچ ڈبلیو بش کے دورہٴ صدارت کے دوران، وہ 1991 سے 1993ء تک اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔

اُنھوں نے مئی، 2017ء میں ’ایف بی آئی‘ کے ڈائریکٹر، جیمز کومی کو برطرف کرنے کے ٹرمپ کے متنازعہ فیصلے کا دفاع کیا تھا، جب کومی روس سے متعلق چھان بین کی سربراہی کر رہے تھے۔

کومی کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد، تفتیش کی ذمے داری اسپیشل کونسل رابرٹ مولر نے سنبھالی، جس میں روس اور ٹرمپ کی 2016ء کی صدارتی انتخابی مہم کے مابین کسی ممکنہ گٹھ جوڑ، یا انصاف میں کسی رکاوٹ کی امکانی کوشش کا پتا لگایا جا رہا ہے۔ روس سے متعلق چھان پر ایک مدت سے ٹرمپ برہم ہیں، جسے وہ گھڑی ہوئی قصہ کہانی قرار دیتے ہیں۔ وہ کسی گٹھ جوڑ یا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے معاملے کی تردید کرتے ہیں۔

برعکس اِس کے، بر کہہ چکے ہیں کہ زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مخالف، ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ہیلری کلنٹن کی ممکنہ ’’غلط کاریوں‘‘ کی چھان بین کی جائے، کسی اور گٹھ جوڑ کی تفتیش کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

مولر کا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے ہے، جنھیں ڈپٹی اٹارنی جنرل، روڈ روزنٹائن نے تعینات کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG