رسائی کے لنکس

یوکرین اور روس کا مینافرٹ مقدمے کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ


وہائٹ ہاؤس کے سینیر ایڈوائز جیرڈ کشنر اپنے وکیل کے ہمراہ کیپیٹل ہل پر سینیٹ کی انٹیلی جنیس کمیٹی کی سماعت میں کے بعد واپس جا رہے ہیں۔ جولائی 2017

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک منیجر پر منی لانڈرنگ اور دوسری ایسی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کا تعلق یوکرین کی روس نواز پارٹی کے لیے اس کی لابنگ سے ہے۔

یوکرین اور روس دونوں امریکہ پر زور دے رہے ہیں کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابق مشیر کی جانب سے یوکرین میں لابنگ کی سرگرمیوں کی تفصیلی چھان بین کرے۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم کے ایک منیجر پر منی لانڈرنگ اور دوسری ایسی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے جن کا تعلق یوکرین کی روس نواز پارٹی کے لیے اس کی لابنگ سے ہے ، جس کی قیادت یوکرین کے سابق صدروکٹر یونوکووچ کرتے تھے۔

یونوکووچ 2014 میں کیف میں بڑے پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کے بعد فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ کو روس پر 2016 کے امریکی انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کرنے کی بجائے مینا فرٹ پر یوکرین کے مقدمے پر توجہ دینی چاہیے۔

یوکرین کے ایک عہدے دار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ روس سے کہے کہ وہ یوکرین میں مینا فرٹ کی ماضی کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے یانوکووچ کو پوچھ گچھ کے لیے دستیاب رکھے۔

یانوکووچ مارچ 2014 میں یوکرین کے جزیرہ نما کرائمیا کے ماسکو سے الحاق کےتھوڑے ہی عرصے کے بعد ملک کے دارالحکومت سے فرار ہو گئے تھے ۔ وہ یوکرین کی حکومت کو چوری اور جعلسازی سے لے کر غداری اور بڑے پیمانے پر قتل تک کے متعدد الزامات کے سلسلے میں مطلوب ہیں ۔

پیر کے روز امریکی عوام کسی غیر ملکی لیڈر کے ساتھ مینا فرٹ کے کاروباری لین دین کی حد کے بارے میں جان کر حیران ہو کر رہ گئے، اگرچہ انہوں نے وہ لین دین ٹرمپ کی صدارتی مہم سے قبل ختم کر دیا تھا۔

منگل کے روز روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے الزامات، محض تصوراتي ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ بے بنیاد الزامات ان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑے جنہوں نے یہ گڑ بڑ شروع کی تھی اور وہ نہیں جانتے کہ اب اس صورت حال سے کس طرح چھٹکارہ پایا جائے ۔ اب انہیں مسٹر مینا فرٹ اور اس کے کچھ معاونین کے بارے میں یوکرین سے ایک سراغ ملا ہے ۔ لیکن یوکرین کے مقدمے کی غالباً یوکرین ہی کو تفتیش کرنی چاہیے ۔ ممکن ہے کہ ان کے پاس امریکی صدر کی انتخابی مہم کے دوران خود اپنے موقف کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ مواد ہو۔

تاہم یوکرین کے صدر پیٹرو پروشینکو کے ایک قریبی مشیر نے وائس آف امریکہ کی یوکرینی سروس کو بتایا کہ یانوکو وچ سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے امریکہ کو ان تک رسائی ہونی چاہیے۔

پروشینکو انتظامیہ کے نائب سر براہ دیمتری شمکوف کاکہنا تھا کہ یونوکووچ اس انتظامیہ کے لیڈر تھے جسے یوکرین میں 2012 اور 2013 سے لے کر جب وہ اس کے انچارچ بنے تھے، توق کیری انقلاب تک قائم کیا گیا تھا ۔ یوکرین کے کاروباری لوگوں کی جانب بہت جارحانہ رویہ اختیار کیا گیا تھا اور مختلف صنعتوں سے بہت زیادہ رقوم نکالی گئیں۔

یوکرین کے عہدے دارے نے اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکی وفاقی عہدے داروں کی جانب سے مزید چھان بین سے ان کے ملک کو یوکونووچ اور ان کی پارٹی آف ریجنز کی جانب سے کی گئی غیر قانونی سر گرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے مدد مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے امریکی اداروں کے توسط سے پال مینا فرٹ کی پوچھ گچھ کے ذریعے ہم بد عنوانی کی کارروائیوں یا ایسی دوسر ی سر گرمیوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں جواس عرصے کے دوران، یعنی یونوکووچ کی حکومت کے دوران واقع ہوئیں اور اس سے یوکرین کے قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ افراد کے خلاف مزید سخت مقدمات قائم کر سکتے ہیں۔

شمکوف کہتے ہیں کہ مینا فرٹ کے یوکرینی کاروبار کی مزید چھان بین سے یہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ روس نے گذشتہ سال امریکی انتخاب کے دوران روس میں کس حد تک مداخلت کی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اب یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ ماسکو نے امریکی ووٹروں پر ٹرمپ کے حق میں اثر انداز ہونے کے لیے سوشل میڈیا اور اپنے انگریزی نیوز چینلز استعمال کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG