رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ تین روزہ دورے پر برطانیہ پہنچ گئے


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی سے متعلق معاملات طے نہیں ہوتے تو اسے بغیر ڈیل کے الگ ہو جانا چاہیے۔

صدر ٹرمپ تین روزہ سرکاری دورے پر پیر کو برطانیہ پہنچے ہیں جہاں وہ وزیراعظم تھریسا مے سمیت برطانوی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے برطانیہ کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر یورپی یونین لچک نہیں دکھاتی تو اسے 50 ارب ڈالر کی رقم ادا کرنے سے بھی معذرت کر لینی چاہیے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کی شرائط کے تحت برطانیہ نے یورپی یونین کو 50 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے اندرون ملک بریگزٹ سے متعلق اتفاق رائے پیدا کرنے میں ناکام رہیں تھیں۔ جس کے بعد انہوں نے وزارت اعظمی سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

صدر ٹرمپ کا تین روزہ دورہ مکمل ہونے کے بعد برطانوی وزیر اعظم بھی اپنا عہدہ چھوڑ دیں گی۔

اپنے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے نئے آنے والے برطانوی وزیر اعظم کو بھی مشورہ دیا ہے کہ اگر یورپی یونین مجوزہ معاہدے سے متعلق رعایت نہیں دیتی تو بغیر معاہدے کے یورپی یونین سے الگ ہو جانا چاہیے۔

صدر نے بریگزٹ ٹیم لیڈر نائیجل فراج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی نئی قیادت کو یورپی یونین سے مذاکرات کے لیے انہیں بھیجنا چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ رواں سال برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد وہ تجارتی معاہدے کے لیے کوششیں تیز کر دیں گے۔

برطانوی عوام نے 2016 میں ہوئے ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم یہ کن شرائط پر ہو گا یہ معاملہ تاحال زیر التوا ہے۔

برطانوی پارلیمان وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب سے بریگزٹ معاہدے کو تین بار مسترد کر چکی ہے جس پر مے حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ کئی ماہ جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد اتفاق رائے کیا تھا۔

برطانیہ کی وزارت اعظمی کے لیے 13 امیدوار سامنے آئے ہیں جن میں کچھ بریگزٹ ڈیل کے حامی اور کچھ اس کے مخالف ہیں۔ جس کے بعد یہ معاملہ مزید گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔

بریگزٹ سے متعلق مجوزہ معاہدے کے لیے برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوئے تھے تاہم اتفاق رائے نہیں ہو سکا تھا۔

اتفاق رائے نہ ہونے پر بریگزٹ کو رواں سال 31 اکتوبر تک موخر کر دیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG