رسائی کے لنکس

logo-print

ملک داؤ پر لگا ہوا ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا: صدر ٹرمپ


امریکی صدر کے بقول ڈیمو کریٹک ارکان مجھے روکنا چاہتے ہیں کیوں کہ میں عوام کے لیے لڑ رہا ہوں لیکن اس میں اُنہیں کامیابی نہیں ملے گی — فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کے اعلان کے بعد سے ملکی سیاست میں ایک بھونچال آچکا ہے جبکہ صدر ٹرمپ اسے امریکہ کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا کھیل قرار دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اتوار کی شب ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے مخالف جماعت ڈیمو کریٹک پارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک میں انتخابات، آزادی، ججز کے فیصلے جیسے اقدامات دیکھنا نہیں چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ ملک داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ایسا ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

صدر ٹرمپ نے ڈیمو کریٹ ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُنہیں روکنا چاہتے ہیں کیوں کہ وہ عوام کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن اس میں اُنہیں کامیابی نہیں ملے گی۔

اپنے مواخذے سے متعلق کارروائی پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہر امریکی کی طرح وہ بھی اُن پر الزام لگاںے والے شخص سے ملنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے صدر کو فون کر کے دباؤ ڈالا تھا کہ وہ سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے خلاف تفتیش کریں جن کے بیٹے کو یوکرین کی گیس کمپنی میں بھاری تنخواہ پر ملازمت دی گئی تھی تاہم جو بائیڈن نے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

جو بائیڈن 2020 کے صدارتی انتخاب میں صدر ٹرمپ کے مقابلے میں آنے کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے مضبوط امیدوار قرار دیے جا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا کہ اُن کی غیر ملکی رہنما کے ساتھ ہونے والی گفتگو کو نامناسب اور غلط طریقے سے پیش کیا گیا۔

انہوں نے مواخذے کی کارروائی کی تحقیقات کی سربراہی کرنے والے ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسکف سے متعلق کہا کہ اسکف نے اپنی جماعت کو جو بتایا وہ خوفناک تھا اور وہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکہ کے صدر نے کہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ وہ صرف اپنے اوپر الزام لگاںے والے شخص سے ہی ملنا نہیں چاہتے بلکہ اس شخص سے بھی ملنا چاہیں گے جس نے یہ معلومات غیر قانونی طریقے سے فراہم کیں۔ جو کہ غلط ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا غلط معلومات فراہم کرنے والا شخص امریکہ کے صدر کی جاسوسی کر رہا تھا۔ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک ارکان سے متعلق کہا کہ ان کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے 2016 میں ہیلری کلنٹن کو شکست دی تھی اور وہ اسی جرم کے لیے ان کا مواخذہ چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئٹ کی کہ ڈیموکریٹ ملک کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ 2020 کے انتخابات اور امریکہ کو غیر مستحکم کرنے کے لیے غلط بیانی کر رہے ہیں۔ ایسا امریکہ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔

کیا صدر کا مواخذہ ممکن ہے؟

امریکہ میں کانگریس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ طے شدہ طریقہ کار کے ذریعے عہدے پر موجود صدر کو برطرف کر سکتی ہے۔

مواخذے کا عمل کئی مراحل سے ہو کر گزرتا ہے اور اس دوران صدر یا مواخذے کی کارروائی کی زد میں آنے والے شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع میں وکیل اور شہادتیں پیش کر سکے۔

امریکہ کی تاریخ میں آج تک کسی صدر کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکا ہے۔ البتہ صدر رچرڈ نکسن نے اپنے خلاف مواخذے کا سامنا کرنے کے بجائے صدارت سے استعفی دے دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG