رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کا اقتصادی امدادی پیکیج پر انتظامی حکم 


صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران لاکھوں امریکیوں کے لیے معاشی امداد کی فراہمی کی غرض سے ہفتے کے روز ایک انتظامی حکم نامے اور تین یاداشتوں پر دستخط کیے۔

بیڈ منسٹر، نیوجرسی میں واقع اپنے گالف کورس میں ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ اس حکم نامے کے تحت چار اقدامات کیے جارہے ہیں:

بے روزگاری کا سامنا کرنے والے امریکی شہریوں کو مالی امداد جاری رہے گی۔

ایک لاکھ ڈالر سے کم آمدنی والے امریکیوں کو ٹیکس میں رعایت دی جائے گی۔

طالب علموں کے لیے قرضوں کی واپسی میں التوا جاری رہے گا۔

لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنے پر پابندی برقرار رہے گی۔

صدر ٹرمپ نے کانگرس کے ڈیموکریٹ ارکان پر الزام لگایا کہ انہوں نے کوویڈ 19 کی وبا سے غیر متعلقہ اشیا امدادی بل میں شامل کی ہیں۔

جمعے کے روز ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ کے اقلیتی لیڈر چک شومر، دونوں نے کرونا وائرس کے امدادی پیکیج کے لیے اپنے مجوزہ 3 اعشاریہ 4 ٹریلین ڈالر کے پیکیج میں اس صورت میں لگ بھگ ایک تہائی کمی کی پیش کش کی اگر ری پبلیکنز اپنی ایک ٹریلین ڈالر کی متبادل پیش کش کو بڑھانے پر متفق ہو جائیں۔

لیکن وائٹ ہاؤس کے مذاکرات کاروں اور وزیر خزانہ منوچن اور چیف آف سٹاف مارک میڈوز نے اس پیش کش کو مسترد کر دیا۔

ری پبلیکن سینٹرز کسی بھی ایسے اقتصادی پیکیج میں دلچسپی نہیں رکھتے جس کا مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کی آخری حد دو ٹریلین ڈالر ہے۔

سوشل سروس کے اداروں نے انتباہ کیا تھا کہ بے روزگاروں کے لیے اضافی فنڈز کے فقدان کے نتیجے میں لاکھوں امریکیوں کو خوراک کی قلت اور گھروں سے بے دخلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG