رسائی کے لنکس

logo-print

عراق سے جلد امریکی فوج واپس بلا لیں گے: صدر ٹرمپ


صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عراقی وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی کی اوول آفس میں ملاقات۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کے وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکی افواج کو بہت جلد اُن کے ملک سے واپس بلا لیا جائے گا۔

عراقی وزیرِ اعظم نے جمعرات کو صدر ٹرمپ سے اوول آفس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی سمیت دیگر امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایک موقع پر ہمیں یقینی طور پر عراق سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانا ہے۔ اُن کے بقول امریکہ پہلے ہی عراق سے اپنے فوجیوں کی تعداد بہت کم کر چکا ہے۔

صدر ٹرمپ نے فوجیوں کی واپسی کی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔ البتہ انہوں نے صحافیوں کے ایک سوال پر کہا کہ ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب ہمیں عراق میں رہنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ عراقی اپنا دفاع خود کر سکتے ہیں اور امریکہ کی مداخلت سے قبل بھی وہ ایسا کر رہے تھے۔

صحافیوں نے جب مسلسل صدر ٹرمپ پر عراق سے فوج کے انخلا کے سوال پر اصرار کیا تو وہ کمرے میں موجود وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کی جانب مخاطب ہوئے۔ جس پر پومپیو نے کہا کہ جب تک امریکہ عراق میں اپنا مشن مکمل نہیں کر لیتا اس وقت تک وہاں فوجی موجود رہیں گے۔

افغانستان اور شام سے فوج واپس بلانے کا ارادہ ہے۔ صدر ٹرمپ
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:42 0:00

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ بالکل واضح ہیں کہ جتنا ممکن ہو سکے عراق سے افواج کو کم ترین سطح پر لانا ہے اور یہی مشن انہوں نے ہمیں سونپا ہے۔ اُن کے بقول وہ عراقی حکام کے ساتھ مل کر اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عراق میں لگ بھگ پانچ ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں جو انسداد دہشت گردی آپریشن اور عراقی سیکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے موجود ہیں۔

مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران عراقی وزیرِ اعظم مصطفیٰ الکاظمی نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں تعاون پر وہ امریکہ کے مشکور ہیں۔ اس تعاون نے دونوں ملکوں کی شراکت داری کو مضبوط بنایا ہے جو کہ عراق کے مفاد کے لیے ہے۔

یاد رہے کہ مصطفیٰ الکاظمی نے رواں برس مئی میں اُس وقت وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا جب عراق اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی تھی۔

رواں برس کے آغاز میں امریکہ نے بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں عراقی ملیشیا کمانڈر ابو مہدی المہندس اور ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا تھا۔

اس حملے کے بعد عراق میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور عراق سے امریکی افواج کے انخلا کے مطالبات میں بھی شدت آ گئی تھی۔

صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران عراقی وزیرِ اعظم نے اپنے ملک میں کرپشن کے خلاف جاری کریک ڈاؤن اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی زور دیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور عراقی وزیرِ اعظم کے دوران ملاقات کے ایجنڈے میں عراق کے کردستان خطے کا معاملہ بھی شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکہ کے کردوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں اور امریکہ نے ان کے ساتھ بہتر برتاؤ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG