رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: ایران نواز ملیشیا کے ٹھکانوں پر امریکی طیاروں کی بمباری


(فائل فوٹو)

امریکہ نے جمعرات کو عراق میں ایران نواز ملیشیا کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے دو امریکی اور برطانوی فوجی کی ہلاکت کے ردعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے مطابق ان حملوں کا دائرہ کار محدود تھا۔ ان میں ایران نواز ملیشیا 'کتائب حزب اللہ' کے اسلحہ ذخیرہ کرنے والے پانچ مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں وہ اسلحہ مرکز بھی شامل ہے، جو ماضی میں امریکہ کے خلاف حملوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔

عراقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حملے میں چار اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

البتہ، امریکی حکام نے ان حملوں میں ہونے والی جانی نقصان سے متعلق تفصیلات نہیں دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے پائلٹ طیاروں کے ذریعے کیے گئے۔

پینٹاگون سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ایسے حملے دوبارہ بھی کر سکتا ہے۔

ایسپر کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ عراق اور خطے کے دیگر ملکوں میں تعینات فوج کے تحفظ کے لیے کسی کارروائی سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

بدھ کو عراقی شہر بغداد کے شمال میں واقع امریکہ کے تاجی ملٹری کیمپ پر عسکریت پسندوں کی جانب سے درجنوں راکٹ داغے گیے تھے۔ امریکی صدر نے واقعے کے فوری بعد جوابی کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق امریکی کیمپ پر لگ بھگ 30 راکٹ داغے گئے، جن میں سے 18 ہدف پر لگے۔ البتہ تاحال کسی گروپ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

تاجی ملٹری کیمپ پر ایرانی ملیشیا کے 107 کیٹی یوشا راکٹ حملوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فوری طور پر جوابی حملے کی اجازت دی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)
تاجی ملٹری کیمپ پر ایرانی ملیشیا کے 107 کیٹی یوشا راکٹ حملوں کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے فوری طور پر جوابی حملے کی اجازت دی گئی تھی۔ (فائل فوٹو)

حالیہ مہینوں میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے دسمبر میں تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس میں دو درجن سے زائد جنگجو ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ حملہ عراقی بیس پر عسکریت پسندوں کے حملے میں امریکی کانٹریکٹر کی ہلاکت کے بعد کیا گیا تھا۔

بدھ کو عسکریت پسندوں کا حملہ عراقی کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی 63 ویں سالگرہ کے دن کیا گیا تھا۔ جس کے بعد بعض تجزیہ کار اس حملے کو انتقام کی کڑی ہی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی فوج نے تین جنوری 2020 کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ایران کی پاسداران انقلاب فورسز کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا تھا۔

عراق میں کشیدگی اور امریکی فورسز پر حملے

گزشتہ برس دسمبر کے آخر میں عراق کے شمالی حصے میں واقع بیس پر راکٹ حملے میں امریکی کانٹریکٹر کی ہلاکت کے بعد جھڑپوں اور کارروائیوں کا آغاز ہوا۔

ان جھڑپوں میں اس وقت شدت آئی جب امریکہ نے اس کے جواب میں ایران کی حمایت یافتہ جنگجو تنظیم کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

امریکی اتحادی افواج پر ہونے والے ان حملوں میں لگ بھگ 30 راکٹ حملے کیے گئے۔ جن میں 18 نے ملٹری بیس کو نشانہ بنایا۔ جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ (فائل فوٹو)
امریکی اتحادی افواج پر ہونے والے ان حملوں میں لگ بھگ 30 راکٹ حملے کیے گئے۔ جن میں 18 نے ملٹری بیس کو نشانہ بنایا۔ جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ (فائل فوٹو)

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے آٹھ جنوری کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق کی عین الاسد بیس پر ایک درجن سے زائد میزائل داغے جس میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا البتہ درجنوں فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں۔

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کی پارلیمان نے بھی ایک قرارداد منظور کی جس میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ عراق میں 5200 امریکی فوجی موجود ہیں جو بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔ عراق میں جنگجو تنظیم 'داعش' کے خاتمے کے لیے 2014 میں درجنوں ملکوں پر مشتمل ایک اتحاد قائم ہوا تھا۔ جس نے کئی برس تک لڑنے کے بعد داعش کو شکست دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG