رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ آج اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کریں گے


فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ منگل کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کریں گے۔

صدر ٹرمپ کا یہ خطاب منگل کی شام واشنگٹن ڈی سی میں واقع کانگریس کی عمارت 'کیپٹل ہِل' کے اس ہال میں ہوگا جہاں ایوانِ نمائندگان کا اجلاس ہوتا ہے۔

خطاب میں سینیٹ کے ارکان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز، ٹرمپ کی کابینہ کے وزرا، اعلیٰ فوجی افسران اور صدر اور خاتونِ اول کی دعوت پر بعض اہم امریکی شخصیات اور عام شہری بھی شریک ہوں گے۔

امریکی صدر کا یہ خطاب ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا جائے گا جس میں وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر قوم کو متحد اور پرامید رہنے کی تلقین کریں گے۔

لیکن میکسیکو کی سرحد کے ساتھ دیوار کی تعمیر کے معاملے پر صدر ٹرمپ اور ڈیموکریٹس کے درمیان جاری اختلافات کے باعث بظاہر نہیں لگتا کہ متحد رہنے کی ان کی اس اپیل کا کم از کم کیپٹل ہِل میں کوئی اثر ہوگا۔

'اسٹیٹ آف دی یونین' وہ خطاب ہے جو امریکہ کے صدر عموماً ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں – سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان – کے مشترکہ اجلاس سے کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال کے اسٹیٹ آف دی یونین کا ایک منظر (فائل فوٹو)
صدر ٹرمپ کے گزشتہ سال کے اسٹیٹ آف دی یونین کا ایک منظر (فائل فوٹو)

رواں سال صدر کو یہ خطاب 29 جنوری کو کرنا تھا لیکن امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر سے متعلق جاری اختلافات کے باعث ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی نے صدر کو ایوان سے خطاب کی دی گئی دعوت واپس لے لی تھی۔

امریکہ کی معلوم تاریخ میں ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کی جانب سے کسی صدر کو 'اسٹیٹ آ ف دی یونین' خطاب کی دعوت واپس لینے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کی حیثیت علامتی ہے جسے امریکی صدور اپنے دور کی کامیابیاں گنوانے اور کانگریس اور قوم کو اپنی ترجیحات باور کرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

قوی امکان ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے خطاب میں امریکی معیشت کی بہتر صورتِ حال کا ضرور ذکر کریں گے اور امریکہ میں روزگار کے بڑھتے ہوئے مواقع کا کریڈٹ لیں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر وفاق کے زیرِ انتظام انفراسٹرکچر – بشمول عمارتوں، پلوں، سڑکوں اور ہوائی اڈوں – کی مرمت اور تعمیر کے لیے مزید فنڈ مختص کرنے پر زور دیں گے۔

امکان ہے کہ صدر ٹرمپ خارجہ امور کے محاذ پر بھی اپنی کامیابیاں گنوائیں گے اور شام اور افغانستان سے امریکی فوج کی جلد واپسی پر زور دیں گے۔

کانگریس کی عمارت کیپٹل ہِل جہاں اسٹیٹ آف دی یونین کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔
کانگریس کی عمارت کیپٹل ہِل جہاں اسٹیٹ آف دی یونین کے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

یہ امید بھی ہے کہ صدر تجارتی تنازعات پر چین کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ دوسری مجوزہ ملاقات سے بھی کانگریس کو آگاہ کریں گے۔

لیکن قوی امکان یہ ہے کہ صدر کی تقریر میں سرحدی دیوار کی تعمیر کا معاملہ سرِ فہرست رہے گا جس پر جاری اختلافات کے باعث 35 روز جاری رہنے والا امریکی حکومت کی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن حال ہی میں ختم ہوا ہے۔

اگر ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاؤس 15 فروری تک دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کے اجراپر متفق نہ ہوئے تو ایک اور شٹ ڈاؤن کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے دو سالہ دورِ اقتدار میں یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ ایسی کانگریس سے خطاب کریں گے جس میں ان کی جماعت ری پبلکن کی اکثریت نہیں۔

لہذا قوی امکان ہے کہ جہاں ری پبلکن ارکان صدر کی تقریر کے دوران بار بار تالیاں بجائیں گے وہیں حاضرین کی ایک بڑی تعداد خاموشی سے یہ خطاب سنے گی۔

یہ امکان بھی ہے کہ بعض ڈیموکریٹ ارکان صدر کے خطاب کے دوران ان پر فقرے بھی کسیں جیسے 2009ء کے اسٹیٹ آف دی یونین کے دوران ری پبلکن ارکان نے صدر براک اوباما پر کسے تھے۔

اسٹیٹ آف دی یونین کے دوران جتنی نگاہیں صدر ٹرمپ پر مرکوز ہوں گی اتنی ہی توجہ ان سے چند فٹ پیچھے بیٹھی ایوانِ کی اسپیکر نینسی پیلوسی کو بھی ملے گی جو سرحدی دیوار کی تعمیر پر جاری جنگ میں ڈیموکریٹس کی قیادت کر رہی ہیں۔

ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی جو منگل کو ہونے والے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گی۔
ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی جو منگل کو ہونے والے کانگریس کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کریں گی۔

حالیہ چند ہفتوں کےدوران ٹرمپ اور پیلوسی دونوں ایک دوسرے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے خطاب کے بعد ڈیموکریٹ رہنما اسٹیسی ابرامز 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب پر اپنی جماعت کا ردِ عمل دیں گی۔

اسٹیسی نے رواں سال نومبر میں ریاست جارجیا کے گورنر کا انتخاب لڑا تھا جو وہ بہت کم ووٹوں کے فرق سے ہار گئی تھیں۔ اگر وہ یہ انتخاب جیت جاتیں تو جارجیا کی تاریخ میں پہلی سیاہ فام گورنر ہوتیں۔

اس شکست کے بعد سے ان کا نام 2020ء میں ہونے والے انتخابات کے دوران سینیٹ کے امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے اور انہیں کئی مرکزی ڈیموکریٹ رہنماؤں کی آشیر واد حاصل ہے۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاون لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ ترین خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔

ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنکس پر کلک کریں۔

اینڈرائڈ فون کے لیے: https://play.google.com/store/apps/details?id=com.voanews.voaur&hl=en

آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے: https://itunes.apple.com/us/app/%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/id1405181675

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG