رسائی کے لنکس

logo-print

'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب 5 فروری کو ہوگا


امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کی جانب سے پانچ فروری کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کرنے کی دعوت قبول کرلی ہے۔

ہاؤس اسپیکر کے نام اپنے خط میں صدر ٹرمپ نے اس دعوت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس ایوان کو سنانے کے لیے ایک "عظیم داستان اور مقاصد" ہیں۔

'اسٹیٹ آف دی یونین' وہ خطاب ہے جو امریکہ کے صدر عموماً ہر سال کانگریس کے دونوں ایوانوں – سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان – کے مشترکہ اجلاس سے کرتے ہیں۔

اس خطاب میں صدر ملکی و بین الاقوامی صورتِ حال اور قانون سازی سے متعلق اپنی حکومت کی پالیسی اور ترجیحات بیان کرتے ہیں۔

رواں سال صدر کو یہ خطاب 29 جنوری کو کرنا تھا لیکن امریکی حکومت کے جزوی شٹ ڈاؤن اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر سے متعلق جاری اختلافات کے باعث ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نے صدر کو ایوان سے خطاب کی دی گئی دعوت واپس لے لی تھی۔

ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی
ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی

امریکہ کی معلوم تاریخ میں ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کی جانب سے کسی صدر کو 'اسٹیٹ آ ف دی یونین' خطاب کی دعوت واپس لینے کا یہ پہلا واقعہ تھا۔

نینسی پیلوسی کی جانب سے خطاب کی دعوت واپس لینے کے بعد وائٹ ہاؤس کے حکام نے دھمکی دی تھی کہ صدر کسی متبادل مقام پر عوامی اجتماع میں اپنا یہ سالانہ خطاب کریں گے۔

لیکن بعد ازاں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کانگریس میں ہی کریں گے اور اس کے لیے شٹ ڈاؤن کے خاتمے تک انتظار کرنے کو ترجیح دیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اسپیکر پیلوسی نے پیر کی شام صدر ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا تھا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے 'اسٹیٹ آف دی یونین' کے لیے پانچ فروری کی تاریخ پر اتفاق کیا۔

اس اتفاقِ رائے کے بعد اسپیکر کی جانب سے صدر کو خطاب کے لیے باضابطہ دعوت نامہ بھیجا گیا جسے صدر نے قبول کرلیا ہے۔

سات جنوری 1943ء کی ایک تصویر جس میں اس وقت کے صدر روزویلٹ کانگریس سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
سات جنوری 1943ء کی ایک تصویر جس میں اس وقت کے صدر روزویلٹ کانگریس سے اپنا سالانہ 'اسٹیٹ آف دی یونین' خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

تاہم اسپیکر کی جانب سے باضابطہ دعوت کے باوجود اس خطاب سے قبل ضروری ہے کہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ بھی صدر کو خطاب کی دعوت دینے سے متعلق قراردادیں منظور کریں۔

امریکہ کے آئین نے صدر کو پابند کیا ہے کہ وہ کانگریس کو وقتاً فوقتاً ملکی صورتِ حال سے آگاہ کیا کریں۔ لیکن آئین میں ایسی کوئی شرط نہیں کہ صدر کو لازماً یہ خطاب ہر سال یا کانگریس کے دونوں ایوانوں کے سامنے ہی کرنا چاہیے۔

گزشتہ صدی کے آغاز تک امریکی صدور تحریری طور پر ارکانِ کانگریس کو 'اسٹیٹ آف دی یونین' سے آگاہ کیا کرتے تھے۔

لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے امریکی صدور یہ خطاب ایوانِ نمائندگان میں ہونے والے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے کرنے لگے ہیں جو ٹی وی پر بھی براہِ راست نشر کیا جاتا ہے۔ صدر کا کانگریس سے یہ سالانہ خطاب اب امریکی سیاست میں ایک روایت بن چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG