رسائی کے لنکس

ٹرمپ پہلے غیر ملکی دورے پر سعودی عرب، اسرائیل اور روم جائیں گے


وائٹ ہاؤس نے جمعرات کوکہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پہلا غیر ملکی دورہ سعودی عرب کا ہو گا جہاں وہ بنیادی پرستی کے خلاف مربوط مہم چلانے کے معاملے پر بات کریں گے۔

صدر یہ دورہ مئی کے اواخر میں کریں گے۔

اپنے بیرونی دورے کے دوران وہ مشرقی وسطیٰ امن عمل کو شروع کرنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے دورے کے دوران مقدس مقامات میں بھی جائیں گے۔

جب کہ وییٹی کن کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ پوپ فرانسس سے بھی ملاقات کریں گے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاوس کے روز گارڈن میں منعقد ہونے والی قومی دعائیہ تقریب میں کہا کہ ان کے بطور صدر غیر ملکی دوروں کا آغاز سعودی عرب سے ہو گا جہاں مسلم دنیا کے راہنماؤں کا اجتماع ہوگا۔

"صدر نے کہا کہ سعودی عرب کا انتخاب انہوں نے اس لیے کیا ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس مقامات واقع ہیں اور یہاں سے ہم انتہا پسندی، دہشت گردی اور تشدد سے نمٹنے کے لیےاپنے مسلمان (ممالک) اتحادیوں سے تعاون اور مدد کی نئی بنیاد رکھیں کریں گے اور نوجوان مسلمانوں کے پرامید مستقبل کے لیے مل کر کام کریں گے۔"

انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہل کار نے جمعرات کے روز بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے دورے میں، صدر کو خطے کی پیچیدہ سیاسی صورت حال سے سیاست سے براہِ راست واسطہ پڑے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دورے کے علاوہ، 25 مئی کو وہ برسلز جائیں گے جہاں وہ نیٹو کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جب کہ 26 مئی کو سسلی میں ’گروپ آف سیون‘ کے سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔

دورے سے اِس بات کا پتا چلتا ہے کہ وہ خطے میں امریکہ کے چوٹی کے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو تقویت دینے کے خواہاں ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے، رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ٹرمپ کے پیش رو، صدر براک اوباما کے اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے تھے۔

اِن دونوں ملکوں کے سربراہان خیال کرتے تھے کہ اوباما کو روایتی اتحادوں سے کوئی لینا دینا نہیں، بلکہ وہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتا طے کرنے کے لیے مذاکرات میں زیادہ دلچسپی لیتے تھے۔

مشرق وسطیٰ میں امن کا حصول اور داعش سے لڑائی ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی توجہ کا مرکز لگتا ہے۔

گزشتہ ہفتے ’رائٹرز‘ کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے شکایت کی تھی کہ سعودی عرب کا امریکہ کے ساتھ رویہ مناسب نہیں ہے، جب کہ امریکہ سعودی عرب کے دفاع پر ’’بے تحاشہ رقوم ضائع کر رہا ہے‘‘۔

سعودی عرب کے طاقتور نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے مارچ میں واشنگٹن میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جس دورے کا ایک اعلیٰ سعودی مشیر نے خیر مقدم کرتے ہوئے، امریکہ سعودی تعلقات کے لیے ’’تاریخی نوعیت کا ایک اہم موڑ‘‘ قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے فروری میں وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ صدر نے اپنے داماد جیرد کوشنر کو اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن سمجھوتا طے کرنے کی کوششوں کی نگرانی کا کام سونپا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG