رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کا ٹروڈو کو فون، معیشت اور تجارت پر گفتگو


فائل فوٹو

ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم ٹروڈو نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ان کی حکومت کے پاس اسٹیل اور المونیم پر عائد نئے امریکی ٹیکسوں کا جواب دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کینیڈا کے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور معاشی مسائل پر گفتگو کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم کو جمعے کی شب ٹیلی فون کیا جس کے دوران دونوں رہنماؤں نے معیشت سے متعلق دو طرفہ امور پر بات کی۔

امریکی صدر اور کینیڈین وزیرِ اعظم کے درمیان 'جی-7' اجلاس کے بعد یہ پہلا باقاعدہ رابطہ ہے جس میں صدر ٹرمپ نے ٹروڈو کو "بہت بد دیانت اور کمزور" شخص قرار دیا تھا۔

گزشتہ ماہ کینیڈا میں ہونے والے دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے اتحادی ملکوں پر امریکی معیشت سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور امریکہ کا استحصال کرنے کے الزامات عائد کیے تھے اور بعد ازاں اجلاس ادھورا چھوڑ کر امریکہ آگئے تھے۔

اجلاس کے بعد بھی صدر ٹرمپ نے بارہا کینیڈا پر امریکی معیشت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات عائد کیے تھے جس کا جسٹن ٹروڈو نے بھی عوامی بیانات کے ذریعے جواب دیا تھا۔

جمعے کو کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے اسٹیل اور المونیم کی درآمدات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلے کے ردِ عمل میں امریکہ سے برآمد کی جانے والی کئی اشیا پر نئے ٹیکس عائد کردیے تھے۔

'جی-7' سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم پر سرِ عام 'بد دیانت اور کمزور' ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ (فائل فوٹو)
'جی-7' سربراہی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے کینیڈین وزیرِ اعظم پر سرِ عام 'بد دیانت اور کمزور' ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔ (فائل فوٹو)

کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 6ء12 ارب ڈالر حجم کے یہ نئے ٹیکس اس وقت تک نافذ رہیں گے جب تک امریکہ کینیڈا سے درآمد کی جانے والی المونیم اور اسٹیل پر عائد نئے ٹیکس واپس نہیں لے لیتا۔

کینیڈین حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق جمعے کو ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران وزیرِ اعظم ٹروڈو نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ان کی حکومت کے پاس اسٹیل اور المونیم پر عائد نئے امریکی ٹیکسوں کا جواب دینے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور کینیڈا کئی دہائیوں سے قریب ترین اتحادی اور تجارتی شراکت دار ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے اتحادی ملکوں سے تجارت پر نئے ٹیکس عائد کرنے کے بعد کئی یورپی ممالک اور کینیڈا سخت برہم ہیں جس کے باعث ان کے امریکہ سے تعلقات میں بھی سرد مہری آئی ہے۔

کئی یورپی ممالک نے بھی امریکہ کے نئے ٹیکسوں کے جواب میں اپنے ہاں امریکی درآمدات پر نئے ٹیکس لگادیے ہیں۔

لیکن صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ امریکہ کے یہ اتحادی ممالک ایک عرصے سے امریکہ کا استحصال کر رہے تھے جن کی وجہ سے ان کے بقول امریکی معیشت کی حالت پتلی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG