رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی کی شمال مشرقی شام پر چڑھائی ہمارا مسئلہ نہیں: ٹرمپ


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کی جانب سے شمال مشرقی شام پر چڑھائی ’’ہمارا مسئلہ نہیں‘‘ ہے۔

اطالوی صدر سرگیو متاریلا کے ہمراہ، بدھ کے روز اوول آفس میں ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ روس مدد کر رہا ہے۔ انھوں نے اس بات کا اعلان کیا کہ ترک فوج کے خلاف شام کی سرزمین کے اندر اپنا دفاع کرنے والے کرد ’’فرشتے نہیں ہیں‘‘۔

اس معاملے پر ٹرمپ کو دونوں سیاسی جماعتوں سے اس بات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے شمال مشرقی شام میں ترک امریکی افواج کے ساتھ کھڑے تھے جب وہ کردوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے تھے۔ داعش کے خلاف کارروائی کے دوران کرد امریکہ کے اتحادی رہے ہیں۔

ٹرمپ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ امریکی فوجی اہلکار خطے کی لڑائی میں ملوث ہوں۔

انھوں نے یہ بات ایسے وقت میں کہی ہے جب ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد ترکی پہنچنے والا ہے، جو یہ کوشش کرے گا کہ ترکی شمال مشرقی شام کے خلاف اپنی فوجی کارروائی بند کرے۔

سرکاری اہلکاروں نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان جمعرات کے روز انقرہ میں امریکی نائب صدر مائک پینس اور امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اس سے قبل، اردوان نے ’اسکائی نیوز‘ کو بتایا تھا کہ پینس اور پومپیو اسی ہفتے اپنے ترک ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کرنے والے ہیں۔

ترک سربراہ نے مزید کہا کہ ’’جب ٹرمپ ترکی آئیں گے تو میں ان سے ملاقات کروں گا‘‘۔ ان کے بیان سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ وہ پینس اور پومپیو سے بات نہیں کریں گے۔ لیکن ترکی کے مواصلات کے سربراہ نے بتایا کہ درحقیقت اردوان دونوں ہی کے ساتھ ملیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق اپنے دورے کے دوران ترکی میں پینس امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کریں گے کہ ’’فوری طور پر جنگ بندی طے کی جائے تاکہ مذاکرات کے ذریعے معاملے کا تصفیہ کیا جا سکے‘‘۔

فوجی کارروائی بند کرنے کے مطالبے کے علاوہ امریکہ نے سٹیل پر محصول بڑھا دیا ہے اور ترکی کے ساتھ 100 ارب ڈالر مالیت کے تجارتی سمجھوتے پر جاری مذاکرات روک دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG