رسائی کے لنکس

ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ’’نیو یارک سٹی کے اس دہشت گرد کو گوانتانامو بھیجنا چاہیں گے۔ لیکن، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس عمل میں طویل عرصہ لگ جاتا ہے‘‘، جب کہ امریکی عدالتی نظام کے ذریعے مقدمہ چلانے میں کم وقت درکار ہوتا ہے

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اب بھی اِسی خیال کے ہیں کہ ازبک تارکِ وطن جن پر نیو یارک سٹی میں ٹرک حملے میں آٹھ افراد کو ہلاک کیا، وہ موت کی سزا کے حقدار ہیں۔ لیکن، وہ اب اِس سوچ پر قائم نہیں دکھائی دیتے کہ حملہ آور کو کیوبا کے گوانتانامو بے میں قائم امریکی حراستی مرکز میں دیگر مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ بند رکھا جائے۔

ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ’’نیو یارک سٹی کے اس دہشت گرد کو گوانتانامو بھیجنا چاہیں گے۔ لیکن، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس عمل میں طویل عرصہ لگ جاتا ہے‘‘، جب کہ امریکی عدالتی نظام کے ذریعے مقدمہ چلانے میں کم وقت درکار ہوتا ہے۔

انتیس برس کے سیفولو سائیپوو پر نیو یارک میں مقدمہ چلانے کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ’’یہ بات مناسب لگتی ہے کہ ایسے ملزم کو سنگین جرم سرزد ہونے کے مقام کے قریب رکھا جائے۔ تیزی سے کارروائی کی جائے۔ موت کی سزا‘‘۔

بدھ کے روز استغاثہ نے سیفولو سائیپوو پر الزام عائد کیا کہ اُنھوں نے ایک ٹرک کرائے پر لیا اور منگل کی شام لوئر مین ہٹن میں سائیکل کے راستے پر چڑھ دوڑا، جہاں کافی لوگ موجود تھے؛ جس کی زد میں آکر سائیکل سوار اور پیدل چلنے والے کچلے گئے۔

ٹرک جب ایک اسکول بس سے ٹکرایا، تو سیفولو سائیپوو ٹوٹے ہوئے ٹرک سے نیچے اترا۔ اُس کے ہاتھوں میں دو بندوق تھے، جس کے بارے میں بعد میں پتا چلا کہ اُن میں سے ایک ’پینٹ بال گن‘، جب کہ دوسری ’چھِرے والی گن تھی‘، جب نیویارک کے ایک پولیس اہل کار نے اُن کے پیٹ پر گولی مار کر اُنھیں زخمی کیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG