رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کا امریکہ میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر غور


بائیس دسمبر کو شروع ہونے والے شٹ ڈاؤن کے خاتمہ جلد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ جمعے کو شٹ ڈاؤن کا 21 واں دن ہے جب کہ ہفتے کو یہ امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن جائے گا۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی حکومت کے جاری شٹ ڈاؤن کے پیشِ نظر ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق صدر نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی اختیار استعمال کرنے پر وائٹ ہاؤس کے قانونی مشیران اور اپنے اتحادیوں سے بات چیت کی ہے۔

امریکی آئین کے تحت ہنگامی حالت کے نفاذ کی صورت میں صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں اور وہ بجٹ سمیت کئی معاملات میں کانگریس کو بائی پاس کرسکتا ہے۔

ہنگامی حالت کے نفاذ کی صورت میں صدر ٹرمپ کو کانگریس کے انکار کے باوجود میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرنے کا اختیار ہوگا جو جاری شٹ ڈاؤن کا سبب ہے۔

صدر ٹرمپ کانگریس سے سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے بجٹ میں پانچ ارب ڈالر مختص کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے ڈیموکریٹس ماننے سے انکاری ہیں۔

ڈیموکریٹس نے صدر کو پیش کش کی ہے کہ وہ سرحدوں کی سکیورٹی بہتر بنانے کے دیگر اقدامات کے لیے حکومت کو سوا ارب ڈالر دینے پر راضی ہیں۔

صدر ٹرمپ جمعرات کو میکسیکو کی سرحد کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ جمعرات کو میکسیکو کی سرحد کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

لیکن صدر کہہ چکےہیں کہ وہ کانگریس کے منظور کردہ کسی ایسے فنانس بِل پر دستخط نہیں کریں گے جس میں دیوار کی تعمیر کے لیے پانچ ارب ڈالر کی رقم نہیں ہوگی۔

وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان جاری تنازع کے باعث وفاقی حکومت کے کئی محکموں کے لیے نیا بجٹ منظور نہیں ہوسکا ہے جس کے باعث امریکی حکومت گزشتہ تین ہفتوں سے جزوی شٹ ڈاؤن ہے۔

ہنگامی حالت کے نفاذ کی دوبارہ دھمکی

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ٹیکساس کے سرحدی قصبے میکالن اور ریو گرانڈے کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک بار پھر سرحد پر دیوار کی تعمیر کو امریکہ کے لیے ضروری قرار دیا۔

دورے کے دوران اپنی گفتگو میں صدر نے ایک بار پھر کہا کہ اگر کسی وجہ سے کانگریس کے ساتھ معاملہ طے نہیں تو پایا تو وہ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کردیں گے۔

صدر نے گزشتہ ہفتے پہلی بار ہنگامی حالت کے نفاذ کا صدارتی اختیار استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا جو ماضی میں امریکی صدور نے عموماً حالتِ جنگ میں ہی استعمال کیا ہے۔

کانگریس ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس نے امریکی فوج کے انجینئرنگ کور کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہنگامی حالت کے نفاذ کی صورت میں اربوں ڈالر کی اس رقم کو دیوار کی تعمیر کے لیے استعمال کرنے کے امکان کا جائزہ لے جو گزشتہ سال پورٹو ریکو اور دوسرے امریکی علاقوں میں آنے والی قدرتی آفات کے بعد بحالی کے لیے مختص کی گئی تھی۔

تین ہفتوں سے جاری شٹ ڈاؤن کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کے سبب صدر کے بعض ری پبلکن اتحادیوں نے بھی اب ان پر ہنگامی حالت کے نفاذ کا صدارتی اختیار استعمال کرنے پر زور دینا شروع کردیا ہے۔

بااثر ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ صدر دیوار کی تعمیر کے لیے درکار فنڈنگ کے حصول کے لیے ہنگامی اختیارات کا استعمال کرلیں۔

تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن

جاری شٹ ڈاؤن کے باعث امریکہ کی وفاقی حکومت کے آٹھ لاکھ سے زائد ملازمین متاثر ہوئے ہیں جنہیں جمعے کو پہلی بار اپنی ماہانہ تنخواہ نہیں ملے گی۔

گو کہ امریکی سینیٹ نے جمعرات کو متفقہ طور پر منظور کیے جانے والے ایک بِل کے ذریعے شٹ ڈاؤن سے متاثرہ تمام ملازمین کو تنخواہوں اور واجبات کی ادائیگی کی منظوری دے دی ہے۔ لیکن یہ ادائیگیاں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوسکیں گی۔

بائیس دسمبر کو شروع ہونے والے شٹ ڈاؤن کے خاتمہ جلد ہوتا نظر نہیں آرہا۔ جمعے کو شٹ ڈاؤن کا 21 واں دن ہے جب کہ ہفتے کو یہ امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن جائے گا۔

اس سےقبل 1996ء میں صدر بِل کلنٹن کے دور میں امریکی حکومت کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ہوا تھا جو 21 دن تک جاری رہا تھا۔

جمعرات کو واشنگٹن ڈی سی میں سیکڑوں سرکاری ملازمین اور کانٹریکٹرز نے شٹ ڈاؤن کے خلاف مظاہرہ بھی کیا جس میں انہوں نے شٹ ڈاؤن سے متاثر سرکاری محکموں کو جلد دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔

جاری شٹ ڈاؤن سے وفاقی حکومت کے انصاف، زراعت، خزانہ، تجارت، داخلی سلامتی سمیت کئی محکمے متاثر ہوئے ہیں جن کے پاس اپنے ملازمین کو تنخواہیں دینے اور معمول کے منصوبے اور سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے فنڈز ختم ہوگئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG