رسائی کے لنکس

جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں: فوجی ترجمان


میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فوج ہر وہ کام کرے گی جو آئین و قانون کے دائرے کے اندر ہے اور آئین اور قانون سے بالاتر کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو فوج سے کوئی خطرہ نہیں اور اگر کوئی خطرہ ہوا تو وہ جمہوریت کے تقاضے پورے نہ کرنے سے ہوگا۔

ہفتے کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ انہیں بطور فوجی وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے بیان پر مایوسی ہوئی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے کہا تھا کہ آئی ایس پی آر کے سربراہ کو ملکی معیشت کے بارے میں بیانات دینے سے گریز کرنا چاہیے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فوج ہر وہ کام کرے گی جو آئین و قانون کے دائرے کے اندر ہے اور آئین اور قانون سے بالاتر کوئی کام نہیں کیا جائے گا۔

پریس کانفرنس کے دوران فوج کے ترجمان نے صحافیوں کو کینیڈین شہری، ان کی امریکی بیوی اور ان کے تین بچوں کی باحفاظت بازیابی کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر غیر ملکی مغویوں کو بازیاب کرانے کے لیے کی جانے والی پاک فوج کی کارروائی اس بات کی مظہر ہے کہ باہمی تعاون اور اعتماد، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی جنگ کے لیے بہت مفید اور ضروری ہے۔

سنہ 2012 میں کینیڈین شہری جوشوا بوئیل اور ان کی امریکی نژاد اہلیہ کیٹلان کولمین کو افغانستان میں عسکریت پسندوں نے اغوا کیا تھا۔ اغوا کاروں کی تحویل میں ہی اس جوڑے کے ہاں تین بچوں کی بھی پیدائش ہوئی تھی اور اس خاندان کو رواں ہفتے پاکستانی فورسز نے افغان سرحد سے ملحقہ علاقے سے بازیاب کروایا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ امریکی سفارت خانے کے ایک سفارت کار نے پاکستانی فوج کو شام چار بج کر دس منٹ پر مطلع کیا تھا کہ مغویوں کو گاڑی کے ذریعے افغانستان سے پاکستان منتقل کیا گیا ہے۔

ان کے بقول مغویوں کی بازیابی کے لیے کرم ایجنسی کےعلاقے میں عمائدین سے مشاورت بھی کی گئی جب کہ فورسز کو وہاں روانہ کرنے کے علاوہ ان گاڑیوں کی نگرانی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔

"جب ہم نے ان گاڑیوں کو شناخت کر لیا تو ان کے ٹائر پر فائر کر کے انھیں گھیرے میں لے لیا تو پہلی ترجیح یہ تھی کہ مغویوں کو اغوا کاروں سے علیحدہ کیا جائے۔۔۔ پھر فوجی اہلکاروں نے انھیں علیحدہ کیا اور باحفاظت بازیاب کرایا۔"

فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ باہمی تعاون دو طرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کی جنگ کے لیے بہت ضروری ہے۔

تاہم انھوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستانی سرزمین پر کارروائی کا اختیار صرف اور صرف پاکستانی فورسز کا ہے اور یہاں مشترکہ کارروائی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ کسی اور ملک کی فورسز ان کے ساتھ مل کر کارروائی میں حصہ لیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG