رسائی کے لنکس

جرمنی کا سفر کرنے والے ترک شہریوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت


فائل

ترک وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''جرمنی میں سیاسی قیادت کی جانب سےجاری انتخابی مہم میں ترک مخالف جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ہمارے ملک کو یورپی یونین کی رکنیت سے دور رکھنا ہے''

ترکی نے ہفتے کے روز اپنے شہریوں کو متنبہ کیا کہ جرمنی کے سفر کے دوران اپنا خاص خیال رکھیں۔ اس ضمن میں ترکی نے جرمنی کے قومی انتخابات سے قبل ملک میں بڑھے ہوئے ترک مخالف جذبات کا ذکر کیا ہے، جو اس ماہ کے اواخر میں منعقد ہونے والے ہیں۔

اس بات کا امکان ہے کہ ہدایت نامہ دونوں نیٹو اتحادی ملکوں کے درمیان تنائو میں اضافے کا باعث بنے، جن کے تعلقات گذشتہ سال ترک صدر رجب طیب اردوان کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد فوجی انقلاب کے حامیوں کے خلاف سخت کارروائی کے بعد ابتری کا شکار ہیں۔

ترک وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''جرمنی میں سیاسی قیادت کی جانب سےجاری انتخابی مہم میں ترک مخالف جذبات بھڑکائے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ہمارے ملک کو یورپی یونین کی رکنیت سے دور رکھنا ہے۔ کچھ وقت سے سیاسی ماحول پر قدامت پسند دائیں بازو کا اثر نمایاں ہے، یہاں تک کہ اس بیانیے میں نسلی نوعیت تک کی باتیں کی جا رہی ہیں''۔

ٹیلی ویژن پر نشر کردہ انتخابی مباحثے میں، گذشتہ اختتام ہفتہ، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ترکی کو یورپی یونین کا رکن بننے سے روکا جائے، جو بظاہر اُن کے خیالات میں تبدیلی کا غماز ہے، جس پر ترکی اُن سے خفہ ہے۔

مرخیل، جن کی قدامت پسند کرسچین ڈیموکریٹس (سی ڈی یو) طویل مدت سے ترکی کی جانب سے یورپی یونین کی رکنیت کے حصول پر کھل کر بات نہیں کیا کرتی تھی، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 24 ستمبر کے انتخابات میں وہ چوتھی میعاد کے لیے منتخب ہوجائیں گی۔

وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ''ترک شہری جو وہاں رہتے ہیں یا جو جرمنی کے سفر کا ارادہ رکھتے ہیں، اُنھیں چوکنہ رہنے کی ضرورت ہے، جنھیں ممکنہ واقعات، رویے یا لفظی حملوں سے بچنا ہوگا جو نسلی نوعیت کے ہوسکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG