رسائی کے لنکس

logo-print

ترکی ادلب میں اپنی ذمے داریاں پوری کر رہا ہے: پوٹن


روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ روس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے مطابق ترکی کے ساتھی شام کے ادلب علاقے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے یہ بیان استنبول میں منعقدہ شام پر چار فریقی سربراہ اجلاس میں دیا، جس میں جرمنی کی آنگلا مرخیل، فرانس کے صدر امانوئیل مکخواں اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان شرکت کر رہے ہیں۔ پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ یہ عمل آسان نہیں ہےاور وہ تعاون جاری رکھے گا۔

ترکی نے طویل عرصے سے ہمیشہ صدر بشار الاسد کو ہٹانے کے لیے باغیوں کی پشت پناہی کی ہے؛ جب کہ روس اسد کا اہم غیر ملکی اتحادی ہے۔ دونوں نے گذشتہ ماہ ایک معاہدہ طے کیا تھا جس کی مدد سے شمال مغربی ادلب خطے کو لڑائی سے پاک علاقہ قرار دیا گیا تھا۔

ادلب اور ملحقہ علاقے باغیوں کا آخری مضبوط ٹھکانہ ہیں، جو 2011ء میں اسد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اس علاقے کی کل آبادی 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جس میں سے نصف جان بچا کر دیگر علاقوں کی جانب نکل گئے ہیں، ایسے میں جب سرکاری افواج نےادلب کی جانب پیش قدمی کی۔

لڑائی پر نظر رکھنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ جمعے کے دِن ادلب میں ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں کم از کم سات شہری ہلاک ہوئے، جو کسی ایک دن میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد ہے، جب سے اگست کے وسط سے روسی فضائی کارروائیاں بند کی گئی ہیں۔

اجلاس کے بعد ہفتے کو استنبول میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن، جرمن چانسلر آنگلہ مرخیل، فرانسیسی صدر امانوئیل مکخواں اور اردوان چار فریقی مذاکرات کریں گے۔

سربراہ اجلاس سے قبل، پوٹن نے مکخواں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایلچی برائے شام، استفان ڈی مستورا، خاندانی وجوہ کی بنا پر آئندہ ماہ عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG