رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کی شکست سستی سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے: امریکی جنرل


ایک کلیدی امریکی عسکری عہدے دار نے عالمی سربراہان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف حاصل ہونے والی پیش رفت کو کامیابی قرار دینے کی غلطی نہ کریں۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ، جنرل جوزف ڈنفرڈ نے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں حاصل کردہ پیش رفت کو ’’خصوصی طور پر حوصلہ افزا‘‘ قرار دیا۔ لیکن، ساتھ ہی امریکی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے دنیا بھر میں داعش کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے خلاف دباؤ جاری رکھیں۔

ڈنفرڈ نے یہ بات منگل کے روز واشنگٹن سے باہر منعقدہ پُرتشدد انتہا پسند تنظیموں کے خلاف دفاعی سربراہان کے ایک اجلاس میں بتائی۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’شاید سستی کے شکار ہونے کا خدشہ آج ہمیں درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے‘‘۔

ڈنفرڈ نے کہا ہے کہ ’’ہماری جانب سے اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کا غلط اندازہ اور خطرے کی نوعیت کے کسی غلط ادراک کی صورت میں ہمارے قائدین پرتشدد انتہا پسندی کے بارے میں توجہ برقرار نہ رکھ سکیں، ایسے میں جب وہ دیگر اہم چیلنجوں کی جانب دھیان دے رہے ہوں گے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’گذشتہ چند سالوں کے دوران بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جب ہم نے دباؤ میں کمی کی، تو (پرتشدد انتہاپسند) نے پھر سے سر اٹھایا اور بے انتہا مہلک بن کر سامنے آیا‘‘۔

دہشت گرد گروپوں کے خلاف کامیابی

امریکی اہلکاروں نے داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف کامیابی کا دعویٰ کیا ہے، اس جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہ پچھلے تین برسوں کے دوران تواتر کے ساتھ دنیا میں دہشت گرد حملوں میں کمی آئی ہے، جب کہ ان حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG