رسائی کے لنکس

logo-print

ادلب میں دو ترک فوجیوں کی ہلاکت پر روس اور ترکی میں تناؤ


ترکی کی پشت پناہی والے باغی جنگجو شام کے حریفوں پر حملہ کر رہے ہیں۔

شام کی ایک فضائی کارروائی میں ترکی کے دو فوجی ہلاک ہونے کے معاملے پر ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ روس نے، جو بشارالاسد کی حکومت کی حمایت کرتا ہے، ترکی پر شام میں دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔

کشیدگی کا یہ تازہ واقعہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب روس اور ترکی کے سفارت کاروں کی جانب سے شام کے معاملے پر تعطل میں کمی لانے کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

ایک بیان میں ترکی کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز شام کے صوبہ ادلب میں فضائی کارروائی میں دو ترک فوجی ہلاک جب کہ پانچ زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں یہ نشاندہی نہیں کی گئی کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے۔ لیکن، اس میں کہا گیا ہے کہ فوری طور پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے، ’’حکومت (شام) کے 50 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا‘‘، جن میں ٹینک اور بھاری دہانے کی توپوں سے مدد لی گئی۔

ترک صدارتی مواصلات کے سربراہ، فرہین التون نے براہ راست شام پر انگلی اٹھائی ہے۔

ایک ٹوئٹ میں، التون نے کہا ہے کہ ’’ادلب میں موجود ترکی کے فوجی امن قائم کرنے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کام انجام دے رہے ہیں۔ حکومت (شام) کی جانب سے کیے گئے حملے میں وہ ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔

شام نے فوری طور پر اس بیان پر اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ لیکن، روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ادلب میں ترکی کے حامی باغیوں پر حملہ کیا، جو شامی افواج کے حصار کے اندر گھس آئے تھے۔ ترکی اور روس دونوں نے ہی جمعرات کو کیے گئے فضائی حملوں کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

ادلب میں شامی افواج کو پسپا کرنے کی غرض سے جمعرات کو ترک حمایت یافتہ باغیوں نے کئی حملے کیے۔ ترک ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ باغیوں نے حکمت عملی کے حامل ایم 4 ہائی وے پر واقع ایک اہم گاؤں پر قبضہ کر لیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG