رسائی کے لنکس

logo-print

شام کردوں کے ساتھ لڑائی میں مداخلت سے باز رہے: ترکی


ترک فوج شام کے علاقے میں موجود ہے (فائل فوٹو)

ترک وزیرِ خارجہ میولت کاووسوغلو کا کہنا تھا کہ اگر شام کرد جنگجو تنظیم 'وائے پی جی' کا صفایا کرنے کے لیے سرگرم ہونا چاہتا ہے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔

ترکی نے شام کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقے میں کرد جنگجووں کے خلاف جاری ترک فوج کی کارروائیوں میں مداخلت سے باز رہے۔

پیر کو استنبول میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ میولت کاووسوغلو کا کہنا تھا کہ اگر شام کرد جنگجو تنظیم 'وائے پی جی' کا صفایا کرنے کے لیے سرگرم ہونا چاہتا ہے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں۔

لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شامی فورسز کرد جنگجووں کو تحفظ دینے کے لیے عفرین کے علاقے میں داخل ہورہی ہیں تو انہیں پتا ہونا چاہیے کہ ترک فوج کو کوئی نہیں روک سکتا۔

ترکی نے گزشتہ ماہ اپنی سرحد کے ساتھ واقع عفرین کے شامی علاقے میں کارروائیاں شروع کی تھیں جو 'وائے پی جی' نامی کرد جنگجو تنظیم کے زیرِ انتظام ہے۔

ترک حکومت کا موقف ہے کہ سرحد پار کی جانے والی اس کارروائی کا مقصد کرد جنگجووں کو عفرین کے سرحدی علاقے سے بے دخل کرکے ترکی اور شام کی سرحد پر 30 کلومیٹر چوڑا بفرزون قائم کرنا ہے تاکہ شام میں سرگرم کرد جنگجو ترکی کی سرحد سے دور رہیں۔

ترکی کا الزام ہے کہ 'وائے پی جے' کے ترکی میں سرگرم کرد علیحدگی پسندوں سے تعلقات ہیں اور شامی تنظیم ترکی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث افراد کی مدد کر رہی ہے۔

شام کے سرحدی علاقے میں گزشتہ ماہ سے جاری ترکی کی فوجی کارروائی میں اطلاعات کے مطابق کرد جنگجووں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

البتہ پیر کو شام کے سرکاری ٹی وی چینل نے خبر دی تھی کہ شام کی فوج اور کرد جنگجووں کے درمیان ایک معاہدہ طے پاگیا ہے جس کے بعد شامی فوج عفرین کے علاقے میں تعینات کی جائے گی۔

'وائے پی جی' کے جنگجو ماضی میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف لڑتے رہے ہیں اور انہیں اس لڑائی میں امریکہ کی مدد بھی حاصل ہے جس پر ترکی معترض رہا ہے۔

ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت کاووسوغلو
ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت کاووسوغلو

شام کی حکومت عفرین کے علاقے میں ترکی کی فوجی کارروائی کو اپنی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ترکی کو خبردار کرتی آئی ہے کہ وہ اس کارروائی کے خلاف اقدامات کرے گا۔

لیکن تاحال شام کی حکومت کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔ ترکی کا موقف ہے کہ اس کی سرحد پار فوجی کارروائی کا مقصد صرف اپنی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے اور اس کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

ترکی اور شام کی فوجوں کے درمیان عفرین کے علاقے میں براہِ راست تصادم کا خطرہ روس کے لیے دردِ سر بن سکتا ہے جو صدر اسد کی حکومت کا اہم ترین بین الاقوامی اتحادی ہے اور اس کے ترکی کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں۔

شام میں موجود روسی افواج ترکی کے طیاروں کو عفرین کے علاقے میں جاری فوجی کارروائی کے لیے شام کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دیتی رہی ہیں اور تاحال یہ واضح نہیں کہ کرد جنگجووں اور شامی حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد روس کا کردار کیا ہوگا۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر کو روس اور ترکی کے صدور کے درمیان ٹیلی فون پر بات چیت بھی ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے شام کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔

لیکن تاحال اس گفتگو کی تفصیلات ذرائع ابلاغ کو جاری نہیں کی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG