رسائی کے لنکس

شام اور عراق میں کرد ٹھکانوں پر ترک طیاروں کےحملے


ترک جنگی طیارے۔ فائل فوٹو

ترک فوج نے کہا ہے کہ جن دوعلاقوں پر حملے کیے گیے ، وہ دہشت گردو ں کا مرکز بنے ہوئے تھے اور بم برسانے کا مقصد ترکی کے اندر حملوں کے لیے پی کے کے، کو ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد بھیجنے سے روکنا تھا۔

ترک جنگی طیاروں نے عراق کے علاقے سنجاراور شمال مشرقی شام میں کرد عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بم برسائے جن میں کم ازکم 20 افراد ہلاک ہوئے۔

منگل کے روز کیے گئے یہ حملے پی کے کے ،کے نام سے منسوب کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی سے منسلک گروہوں کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھے۔

شام میں کیے گئے فضائی حملوں میں شام کی ڈیموکریٹک فورس ایس ڈی ایف کے ایک اہم گروپ وائی پی جی کو نشانہ بنایا گیا۔ رقہ میں داعش کے اہم مرکز کے خلاف لڑنے والے اس گروپ کو امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے۔

ترک فضائی حملے شام میں اسلامک اسٹیٹ کو شکست دینے کی کوششوں کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان حملوں سے کرد جنگجوؤں کے معاملے پر، جو جہادیوں کے پیچھے دھکیلنے کی مہم میں بہت اہم رہے ہیں ،واشنگٹن اور اس کے نیٹو اتحادیوں اور انقرہ کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹر نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک امریکی فوجی افسر نے وائی پی جی کے کمانڈروں کے ہمراہ شام میں ترک سرحد کے قریب حملے کے مقام کا جائزہ لیا۔

کرد گروپ وائی پی جی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک سرحد سے ملحق شام میں ماؤنٹ کراچوک کے نزدیک ان کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانا گیا جس میں ایک میڈیا سینٹر، ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن اور فوجی تنصبات شامل ہیں۔

کرد ترجمان نے بتایا کہ اس حملے میں 20 جنگجو ہلاک اور 18 زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔

ترک فوج نے کہا ہے کہ جن دوعلاقوں پر حملے کیے گیے ، وہ دہشت گردو ں کا مرکز بنے ہوئے تھے اور بم برسانے کا مقصد ترکی کے اندر حملوں کے لیے پی کے کے، کو ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد بھیجنے سے روکنا تھا۔

پی کے کے گروپ ، جسے ترکی، امریکہ اور یورپی یونین دہشت گرد گروپ قرار دیتی ہے، کردوں کی خود مختاری کے لیے گذشتہ تین عشروں سے ترک حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں کر رہا ہے۔اس لڑائیوں میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جن میں اکثریت کردوں کی ہے۔

ترک سیکیورٹی فورسز کے ذرائع نے کہا ہے کہ جنوب مشرقی کرد اکثریتی علاقے میں منگل کے روز کارروائیوں میں جنہیں فضائی مدد حاصل تھی، پی کے کے، کے 13 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔ اس دوران سٹرک کنارے نصب ایک بم پھٹنے سے دو ترک فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG