رسائی کے لنکس

logo-print

دو سینئر امریکی سینیٹروں کا ٹرمپ کی امور خارجہ کی اہلیت پر سوال


مکین کے بقول، ''میرے خیال میں، امیگریشن اصلاحات کا آغاز ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے کہ وائٹ ہائوس کو فیصلہ سازی میں نظم و ضبط اپنانے کی ضرورت ہے۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت یہی ایک کمی ہے جس سے ہمیں سابقہ ہے''

ری پبلیکن پارٹی کے دو اہم سینیٹروں نے اتوار کے روز امورِ خارجہ سے متعلق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اہلیت پر سوال اٹھائے ہیں، جن میں خصوصی طور پر قومی سلامتی کے امور سے نمٹنے کی وائٹ ہائوس کی استعداد اور امریکی صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے معاملے پر اقدام لینے سے انکار کا معاملہ شامل ہے۔

اریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر جان مکین نے، جنھیں 2008ء میں صدارتی امیدوار کے طور پر شکست کا سامنا رہ چکا ہے، 'این بی سی' کے 'میٹ دی پریس' پروگرام کو بتایا کہ وہ امور خارجہ کے معاملات کو پرکھنے کی ٹرمپ کی صلاحیت اور متضاد موئقف اختیار کرنے پر پریشان ہیں۔

بقول اُن کے ''میرے خیال میں، امیگریشن اصلاحات کا آغاز ایک مثال کی حیثیت رکھتا ہے کہ وائٹ ہائوس کو فیصلہ سازی میں نظم و ضبط اپنانے کی ضرورت ہے۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت یہی ایک کمی ہے جس سے ہمیں سابقہ ہے''۔

اُنھوں نے کہا کہ ٹرمپ، جو جائیداد کے ایک ارب پتی شخص ہیں اور ری پبلیکن پارٹی کو اختیار کر چکے ہیں، اُنھوں نے نیٹو اتحاد کے بارے میں اپنےاظہار خیال اور عزم پر یورپی اتحادیوں کو پریشانی میں ڈال دیا ہے، حالانکہ نائب صدر مائیک پینس نے ہفتے کے روز میونخ میں منعقدہ سلامتی اجلاس کو بتایا کہ امریکہ ''روس کا احتساب لے گا'' اور نیٹو کی حمایت میں پُرعزم ہے۔

یورپی سربراہان کے بارے میں مکین نے کہا کہ ''وہ پہیلیاں بوجھ رہے ہے، اور پریشان ہیں''۔

بقول اُن کے، ''امریکہ مغربی اتحاد کا جُزو لاینفق ہے۔ اُنھوں خاص طور پر پریشانی ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ اتحاد کو آزمائش کا سامنا ہے، جس کا سبب (روسی صدر) ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ہتھیاروں کے تجربات ہیں''۔

مکین نے امریکی انٹیلی جنس برادری کی جانب سے برآمد کردہ نتائج کی چھان بین کے لیے وسیع تر کانگریس کے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے، جسے روس مسترد کر چکا ہے کہ روس نے نومبر کے انتخابات کے دوران سابقہ امریکی وزیر خارجہ اور ڈیموکریٹ پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے کمپیوٹر کو ہیک کیا ہے۔

بعدازاں، خفیہ رازوں کے مخالف گروپ، وکی لیکس نے افشا کردہ ہزاروں اِی میل جاری کیں؛ جب کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی اُن کوششوں سے پردہ ہٹایا جن کا مقصد پارٹی کی نامزد صدارتی امیدوار کلنٹن کو انتخاب میں کامیاب کرنا تھا۔

ٹرمپ نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ وہ روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں، اور تذبذت کے بعد، حالیہ دِنوں روسی ہیکنگ کو تسلیم کیا ہے۔

سینیٹر گراہم کا روس کے بارے میں بیان

تاہم، سائوتھ کیرولینا سے تعلق رکھنے والے ری پبیلکن سینیٹر، لِنڈسی گراہم نے میونخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو سزا دینے کی غرض سے نئے امریکی سربراہ کو قانون سازوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیئے۔

گراہم نے مطالبہ کیا کہ ' 2017ء میں کانگریس کو روس کے خلاف اقدام کرنا چاہیئے''۔

XS
SM
MD
LG