رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی وزیر داخلہ پر خراب رویے کے الزامات


Priti Patel Boris Johnson

برطانیہ کے کئی سرکاری افسروں نے وزیر داخلہ پریتی پٹیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کرتیں اور خراب رویہ اختیار کرتی ہیں۔ ایک افسر ہفتے کو احتجاج کرتے ہوئے مستعفی ہوگیا۔ لیکن وزیراعظم بورس جانسن نے تنقید مسترد کرتے ہوئے اپنی وزیر کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی محکمہ داخلہ کے اعلیٰ ترین افسر فلپ رٹنم نے پریتی پٹیل پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے اپنے محکمے میں خوف کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پریتی پٹیل ماتحتوں کو بے وجہ دباؤ میں لیتی ہیں اور ان کے ساتھ غیر مناسب رویہ رکھتی ہیں۔ فلپ رٹنم ہفتے کو مستعفی ہوگئے تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ وہ محکمہ داخلہ پر مقدمہ کریں گے جس نے انھیں ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ مزید دو محکموں کے افسروں نے بھی پریتی پٹیل کی شکایت کی ہے، جن کی وہ ماضی میں سربراہ رہ چکی ہیں۔ ان میں ڈپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ اور ڈپارٹمنٹ اور ورک اینڈ پینشنز شامل ہیں۔

ورک اینڈ پینشنز کے ایک افسر نے 2015 میں پریتی پٹیل پر نامناسب سلوک کا الزام لگایا تھا جس کے بعد حکومت نے 25 ہزار پاؤنڈ دے کر معاملہ ختم کیا تھا۔

پریتی پٹیل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کے خلاف تمام الزامات غلط ہیں۔ وزیراعظم بورس جانسن نے بدھ کو دارالعوام میں سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پریتی پٹیل غیر معمولی کام کررہی ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ پریتی پٹیل کے خلاف اندرونی تحقیقات کی جارہی ہے لیکن اپوزیشن لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کا کہنا ہے کہ وہ کافی نہیں اور کسی وکیل سے آزادانہ تحقیقات کرائی جانی چاہیے۔

پریتی پٹیل اس سے پہلے تھریسا مے کی کابینہ میں بھی وزیر تھیں لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور دیگر سینئر حکام کے نجی دوروں میں ان سے بلا اجازت ملاقاتیں کرنے پر کابینہ سے نکال دی گئی تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG