رسائی کے لنکس

logo-print

لندن: ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف مظاہرہ، نو افراد گرفتار


گرین پیس کے 100 سے زائد کارکنان نے بی پی کے مرکز دفتر کے سامنے 500 سے زائد سولر پینلز رکھنے کی کوشش کی۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پیٹرولیم کمپنی کے مرکزی دفتر کے سامنے ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کے احتجاج کے باعث کچھ وقت کے لیے کام بند ہو گیا۔

بی پی، جس کا سابقہ نام برٹش پیٹرولیم تھا، کے مطابق گرین پیس کے 100 سے زائد کارکنان نے بی پی کے مرکز دفتر کے سامنے 500 سے زائد سولر پینلز رکھنے کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ بی پی کا مرکزی دفتر لندن کے وسط میں سینٹ جیمز اسکوائر پر واقع ہے جب کہ بدھ کو کمپنی کے نئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) برنارڈ لونی نے کمپنی کی ذمہ داریاں سنبھالنے دفتر پہنچے تھے جب ماحولیاتی کارکنان کی جانب سے احتجاج دیکھنے میں آیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے نو افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ماحولیات کے تحفظ کے کارکنان اپنے ساتھ تیل کے بیرل یا ڈرم بھی لائے تھے۔ جو انہوں نے بی پی کے مرکزی دفتر جانے والے راستے میں رکھ دیے تھے۔

احتجاج کرنے والی گرین پیس نامی تنظیم کے ترجمان اسٹیفنو گیمینی کا کہنا تھا کہ متعدد رضا کاروں نے اپنے آپ کو ہتھکڑیوں کے ذریعے تیل کے ڈرموں سے باندھا ہوا تھا۔

بی پی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چیف ایگزیٹیو لونی ماحولیات کے لیے کام کرنے والے رضاکاروں کی مایوسی اور ناراضگی کی وجوہات سے آگاہ ہیں۔

واضح رہے کہ بی پی کے نئے سی ای او آئر لینڈ کے 49 سالہ لونی بی پی کاربن کے اخراج کے حوالے سے پالیسی عنقریب سامنے لائیں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کاربن کے اخراج میں کمی کے حوالے سے کمپنی کے پختہ عزم کا اظہار کریں گے۔

بی پی کے مطابق لونی کو امید ہے کہ وہ جو بھی سامنے لائیں گے اس سے لوگوں پر واضح ہو جائے گا کہ انہیں کیا حاصل ہو رہا ہے جب کہ بی پی اس (ماحولیات کے) مسئلے کے حوالے سے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ بی پی کافی عرصے سے ماحولیات کے کارکنوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے کہ وہ 2015 کے ماحولیات کے حوالے سے اہداف کو حاصل کرکے تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنا کردار ادا کر سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG