رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: بلدیاتی انتخابات میں 'لیبر پارٹی' آگے


لیبر نےمقامی کونسلرز کی سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے بعد اب تک تمام سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل کر رکھی ہے

برطانیہ اور شمالی آئر لینڈ میں مقامی کونسلوں اور یورپی پارلیمنٹ کے انتخابات کا عمل جمعرات کی رات مکمل ہوا، جس کے بعد رات گئے سے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

سال 2014 کے بلدیاتی انتخابات کےزیادہ تر نتائج ملک بھر سے موصول ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی بھی بعض کونسلوں سے نتائج آنے کا انتطار کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، برطانیہ کی 161 ضلعی کونسلوں میں سے اب تک 150کونسلوں کی جانب سے انتخابی نتائج کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

برطانیہ کی غیرمیٹروپولیٹن کونسلز، میٹروپولیٹن باروز اور لندن باروزکی 4,000 نشستوں کے لیے برطانیہ کی اہم ترین جماعتوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوا۔

اس ضمن میں، انتخابات سے قبل کی جانے والی سیاسی پیش گوئیاں بہت حد تک درست ثابت ہوئیں اور دائیں بازو کی جماعت ' انڈیپینڈنٹ ( یوکپ) ایک مضبوط سیاسی جماعت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے، جس نےملک کی حکمراں سیاسی جماعت 'کنزرویٹیو' اور حزب مخالف' لیبر' سے درجنوں کونسلرز کی نشستیں چھین لی ہیں۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی سیاسی جماعت کنزرویٹیوکے لیے حالیہ انتخابات کے نتائج بہتر ثابت ہوئے کنزرویٹیو نے گذشتہ برس کی 25 فیصد نشستوں سے زیادہ کامیابی حاصل کر لی ہے اور لیبر سے جن قدم کی دوری پر ہیں۔

ااتحادی جماعت، لبرل ڈیموکریٹ کے لیے انتخابی نتائج حسب منشا نہیں رہے خاص طور پر نائب وزیر اعظم نک کلیگ کی جماعت لبرل ڈیمو کریٹ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس سال اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکی ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں سب سے نمایاں پوزیشن لیبر نے حاصل کی ہے۔ لیبر جماعت نےمقامی کونسلرز کی سب سے زیادہ نشستیں جیتنے کے بعد اب تک تمام سیاسی جماعتوں پر سبقت حاصل کر رکھی ہے لیکن گذشتہ سال کے مقابلے میں لیبر کی امیدیں پوری نہیں ہو سکی ہیں۔

برطانیہ کے مقامی وقت رات 9 بجے تک آنے والے نتائج کے مطابق، اہم سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ نشستیں اور ہارنے اور جیتنے والی نشستوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

ایڈ ملی بینڈ کی سیاسی جماعت لیبر:

لیبر جماعت کے رہنما ایڈ ملی بینڈ کے لیے انتخابی نتائج اچھے ثابت ہوئے۔ لیکن، انڈیپینڈنٹ کے ہاتھوں انھیں اپنی کئی پرانی نشستوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ لیبر نے اب تک کے نتائج کے مطابق ،31 فیصد ووٹ حاصل کئے اور کل 1,891 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔

حالیہ انتخابات میں لیبر کی کارکردگی کو سیاسی مبصرین کی جانب سے سراہا بھی گیا ہے جس نے اپنی نشستوں پر292 کونسلرز نشستوں کا اضافہ کیا ہے جبکہ 2010 کے انتخابات میں لیبر نے کل 17 مزید کونسلوں کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور اس وقت کی مضبوط جماعت کنزرویٹیو کے مقابلے میں زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن لندن مئیر کے چناؤ میں لیبر کنزرویٹیو کے امیدوار بورس جانسن سے شکست کھائی تھی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے لیبر کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ، میرا خیال ہے کہ گذشتہ رات ہم نے شدید عدم اطمینان اور تبدیلی کی گہری خواہش کو محسوس کیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون کی سیاسی جماعت کنزرویٹیو :

حکمران جماعت نے برطانیہ بھر سے 29 فیصد ووٹ حاصل کئے ان کی جماعت نے کل 1,259نشستیں جیت لی ہیں لیکن اس کے ساتھ انھیں اپنی 201 نشستوں کا ب ھی خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ۔خاص طور پرایسکیس میں 11 نشستیں حاصل کر کے کنزرویٹیو یا ٹوری جماعت کاوزیر اعظم نے اس بارے میں ذرائع سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ، ہم کنزرویٹیو جماعت سے تعلق رکھتے ہیں جو معاہدوں پر سودہ نہیں کرتی ہے بلکہ اگلے برس عام انتخابات جیتنے کے لیے ہماری جماعت ہر ممکن کوشش کرے گی ۔
XS
SM
MD
LG