رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: فوجی بیس پر راکٹ حملے میں دو امریکی اور ایک برطانوی اہلکار ہلاک


تاجی ایئربیس پر بدھ کو ہونے والا حملہ گزشتہ برس اکتوبر کے بعد سے عراق میں امریکی تنصیبات پر 22واں حملہ تھا۔ (فائل فوٹو)

عراق میں فوجی بیس پر راکٹ حملے میں دو امریکی اور ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی افواج پر یہ چند مہینوں کے دوران ہونے والا بڑا حملہ ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع 'تاجی ایئر بیس' پر 18 راکٹ فائر ہوئے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔

ایئر بیس پر امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی افواج مقامی فورسز کو جنگجوؤں سے لڑنے کی تربیت دینے کے لیے موجود ہیں۔

اتحادی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ راکٹ حملوں میں تین اہلکار ہلاک ہوئے جن میں سے دو کا تعلق امریکہ اور ایک کا برطانیہ سے ہے جب کہ 12 اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ زخمی ہونے والے اہلکاروں کا تعلق کس ملک سے ہے۔

تاجی ایئربیس پر بدھ کو ہونے والا حملہ گزشتہ برس اکتوبر کے بعد سے عراق میں امریکی تنصیبات پر 22واں حملہ تھا۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اور ان کے برطانوی ہم منصب ڈومینک رب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس کے دوران انہوں نے راکٹ حملے کی مذمت کی۔

عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں۔ (فائل فوٹو)
عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار سے زائد فوجی موجود ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مائیک پومپیو اور ڈومینک رب نے اس بات کے عزم کا اعادہ کیا کہ راکٹ حملے کے ذمہ داروں سے کڑا حساب لیا جائے گا۔

عراق میں غیر ملکی افواج پر حملے کی ذمہ داری اب تک کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔ البتہ امریکہ نے ایران کی حمایت یافتہ جنگجو تنظیم پاپولر موبائیلائزیشن فورسز کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری' کے مطابق عراقی بیس پر راکٹ حملے کے فوری بعد تین لڑاکا طیاروں نے عراق اور شام کی سرحد کے قریب جنگجو تنظیم کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا ہے اور یہ طیارے ممکنہ طور پر امریکی اتحادی افواج کے تھے۔

سیرین آبزرویٹر کے سربراہ رامی عبدالرحمان کے مطابق شام کے سرحدی علاقے البوکمال میں 10 دھماکے سنے گئے جس میں کم از کم 18 جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں کشیدگی اور امریکی فورسز پر حملے

گزشتہ برس دسمبر کے اواخر میں عراق کے شمالی حصے میں واقع بیس پر راکٹ حملے میں امریکی کنٹریکٹر کی ہلاکت کے بعد جھڑپوں اور کارروائیوں کا آغاز ہوا۔ ان جھڑپوں میں اس وقت شدت سامنے آئی جب امریکہ نے اس کے جواب میں ایران کی حمایت یافتہ جنگجو تنظیم کتائب حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

امریکی کارروائی میں کم از کم 25 جنگجو ہلاک ہوئے جس کے بعد 31 دسمبر کو مشتعل افراد نے بغداد میں امریکی سفارت خانے کا محاصرہ کرتے ہوئے وہاں جلاؤ گھیراؤ کیا۔

امریکہ نے تین جنوری 2020 کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملے میں ایران کی پاسداران انقلاب فورسز کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی اور کتائب حزب اللہ کے ڈپٹی کمانڈر ابو مہدی المہندس کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا۔

ایران نے آٹھ جنوری کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق کی عین الاسد بیس پر ایک درجن سے زائد میزائل داغے جس میں کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا البتہ درجنوں فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئیں۔

ایران نے اپنی اس کارروائی کو جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا اور کشیدگی کے خاتمے کی اپیل کی۔

جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد عراق کی پارلیمان نے بھی ایک قرارداد منظور کی جس میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ عراق میں 5200 امریکی فوجی موجود ہیں جو بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہیں۔ عراق میں جنجگو تنظیم 'داعش' کے خاتمے کے لیے 2014 میں درجنوں ملکوں پر مشتمل ایک اتحاد قائم ہوا تھا جس نے کئی برس تک لڑنے کے بعد داعش کو شکست دی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG