رسائی کے لنکس

logo-print

یروشلم کے مسئلے پر جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب


اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک منظر

جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس 15 رکنی سلامتی کونسل کے پیر کو ہونے والے اجلاس کے ردِ عمل میں طلب کیا گیا ہے جس میں امریکہ نے یروشلم سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد ویٹو کردی تھی۔

امریکہ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کے خلاف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ایک ہنگامی اجلاس جمعرات کو طلب کرلیا گیا ہے۔

جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس 15 رکنی سلامتی کونسل کے پیر کو ہونے والے اجلاس کے ردِ عمل میں طلب کیا گیا ہے جس میں امریکہ نے یروشلم سے متعلق پیش کی جانے والی قرارداد ویٹو کردی تھی۔

مذکورہ قرارداد کونسل کے رکن مصر نے پیش کی تھی جس میں امریکہ یا صد رڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر "یروشلم سے متعلق حالیہ فیصلوں پر تشویش" کا اظہار کیا گیا تھا۔

کونسل کے 15 میں سے 14 ارکان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن امریکہ نے مستقل رکن کو حاصل اختیار استعمال کرتے ہوئے قراداد ویٹو کردی تھی۔

قرارداد مسترد ہونے پر فلسطین اور دیگر مسلم ملکوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اب وہ یہ قرارداد عالمی ادارے کی 193 رکنی جنرل اسمبلی سے منظور کرائیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس مسلمان اور عرب ملکوں کی درخواست پر ہی بلایا گیا ہے۔

عالمی ادارے میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی جائے گی جس میں امریکہ سے یروشلم سے متعلق اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

گوکہ جنرل اسمبلی میں منظور کی جانے والی قراردادوں پر عمل درآمد رکن ملکوں پر لازمی نہیں لیکن اس کے باوجود جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی سیاسی اہمیت ہے۔

اس سے قبل یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد امریکہ نے ویٹو کردی تھی
اس سے قبل یروشلم سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی قرارداد امریکہ نے ویٹو کردی تھی

جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کیے جانے کے بعد اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایسی کسی بھی قرارداد کی حمایت کرنے والے ملکوں کا نام یاد رکھے گا جس میں امریکی فیصلوں پر نکتہ چینی کی گئی ہو۔

ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں نکی ہیلی نے کہا ہے کہ امریکہ نے یہ فیصلہ کہ اس کا سفارت خانہ کہاں ہونا چاہیے، اپنے عوام کی خواہش کی بنیاد پر کیا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس بنیاد پر وہ ملک بھی امریکہ کو نشانہ بنائیں جن کی امریکہ ماضی میں مدد کرتا رہا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جلد اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کردے گا۔

صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف مسلمان ملکوں کے علاوہ امریکہ کے اتحادی یورپی ممالک نے بھی سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ میں 1950ء میں منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے مطابق کسی بھی اہم مسئلے پر سکیورٹی کونسل کی ناکامی کی صورت میں رکن ملکوں کو مشترکہ اقدامات کی سفارش کرنے کی غرض سے عالمی ادارے کی جنرل اسمبلی کا خصوصی ہنگامی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔

اس قرارداد کے تحت گزشتہ 67 برسوں میں اب تک جنرل اسمبلی کے صرف 10 ایسے ہنگامی اجلاس ہوئے ہیں۔

آخری بار 2009ء میں مشرقی یروشلم اور دیگر فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والا اجلاس اسی 2009ء کے اجلاس کا تسلسل ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG