رسائی کے لنکس

برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو فون، یروشلم اور یمن سے متعلق گفتگو


سب سے پہلے اس ٹیلی فون کال کی اطلاع 'ڈائوننگ اسٹریٹ' کے ترجمان نے دی جن کا کہنا تھا کہ دونوں سربراہان نے یروشلم کے بارے میں اپنے ''مختلف موقف'' پر بات کی

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مئے نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ٹیلی فون کیا، اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے صدر کے حالیہ فیصلے سے متعلق گفتگو کی، جس کے نتیجے میں عرب اور مسلمان ملکوں کی درخواست پر شاذ و نادر منعقد کیا جانے والا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔

سب سے پہلے اس ٹیلی فون کال کی اطلاع 'ڈائوننگ اسٹریٹ' کے ترجمان نے دی جن کا کہنا تھا کہ دونوں سربراہان نے یروشلم کے بارے میں اپنے ''مختلف موقف'' پر بات کی۔

فون کال سے ایک ہی روز قبل، مئے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 13 دیگر ارکان نے ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس میں ٹرمپ کا اعلان واپس لیے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ نے قرارداد کو ویٹو کردیا تھا۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی ایلچی، ریاض منصور کے مطابق، اقوام متحدہ کی 193 ارکان پر مشتمل جنرل اسمبلی جمعرات کو اس قرارداد پر رائے شماری میں حصہ لے گی۔

اس رائے شماری پر عمل درآمد لازم نہیں۔ لیکن، اس کا سیاسی وزن ضرور پڑے گا۔

ترجمان نے کہا کہ مئے اور ٹرمپ نے یمن میں انسانی بحران کے بارے میں بھی اپنی ''برقرار انتہائی تشویش'' پر بات کی۔ اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہل کار نے پیر کے روز کہا تھا کہ لڑنے والے فریق کو چاہیئے کہ وہ یمن میں مشکل کے شکار 85 لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، جو ''قحط سالی سے محض ایک ہی درجہ دور ہیں''۔

ترجمان کے بقول، ''اُنھوں نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اور کاروباری اشیا کو دستیاب کیے جانے کے اہم معاملے کی حمایت کا اظہار کیا، تاکہ قحط سالی سے بچا جا سکے اور بے گناہ یمنی آبادی کو مشکلات سے نجات دلائی جائے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG