رسائی کے لنکس

روہنگیاؤں کے خلاف زیادتیاں، معاملہ ’آئی سی سی‘ میں جانا چاہیئے: رعد الحسین


انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین اہل کار نے اِس بات پر زور دیا ہے کہ میانمار کی روہنگیا مسلمان اقلیتی آبادی کے خلاف ہونے والے مبینہ جرائم کے معاملے کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں لایا جائے، تاکہ فوجداری مقدمہ چلایا جا سکے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، زید رعد الحسین نے مبینہ زیادتیوں کے معاملے کو ’آئی سی سی‘ لے جانے کی بات جمعے کے روز جنیوا میں اخباری کانفرنس میں کی۔

زید نے کہا کہ ’’ہاں۔ اِس بات کے کافی ثبوت بتائے جاتے ہیں کہ عین ممکن ہے نسل کشی کا عمل جاری رکھا گیا ہو۔ لیکن کوئی عدالت ہی، جو سارے دلائل سنے، اِس بات کی تصدیق کر سکتی ہے‘‘۔

اس سے قبل اُنھوں نے روہنگیا کے خلاف میانمار کی حکومت کے اقدامات کو ’’نسل کشی کی کتابی تشریح‘‘ قرار دیا تھا۔

میانمار نے چھان بین کی غرض سے اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے ملک میں داخلے پر ممانعت عائد کر دی ہے۔

پیر کے روز اقوام متحدہ کا حقائق جاننے کا مشن اپنی ابتدائی رپورٹ دیے گا، جس کی بنیاد بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں میں موجود لواحقین یا بچ جانے والوں سے کیے گئے انٹریوز پر مشتمل ہوگی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق ایک اعلیٰ اہل کار نے جمعرات کو بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ میانمار کی حکومت پر دباؤ برقرار رکھا جائے، تاکہ روہنگیاؤں کے خلاف زیادتیاں بند ہوں اور اُن کی وطن واپسی میں مدد مل سکے۔

حقوق انسانی کے معاون سکریٹری جنرل، اینڈریو گلمور نے جمعرات کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’صاف ظاہر ہے کہ میانمار کی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ برقرار رکھا جانا چاہیئے، تاکہ اُس کی سکیورٹی افواج جو کچھ کر رہی ہیں بند کریں‘‘۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ فی الواقع، صرف کہنے کی حد تک نہیں، بلکہ حقیقی طور پر ایسے حالات پیدا ہوں کہ مہاجرین واپس جائیں‘‘۔

گلمور بنگلہ دیش میں کاکسز بازار کے چار روزہ دورے کے بعد اس ہفتے واپس پہنچے، جہاں تقریباً 10 لاکھ روہنگیا مسلمان مہاجرین مقیم ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا مہاجر کیمپ بن چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG