رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے میانمار کے فوجی سربراہ پر پابندی لگا دی


میانمار فوج کے سربراہ من اونگ لائنگ (فائل فوٹو)

امریکہ نے میانمار کی فوج کے سربراہ من اونگ لائنگ اور دیگر تین افسران پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات پر پابندیاں عائد کردی ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ میانمار کی فوج کے سربراہ اور دیگر کے خلاف کارروائی قابلِ اعتماد شواہد کی بنا پر کی گئی ہے جس کے بعد اُن کے امریکہ میں داخلے پر پابندی ہو گی۔

بیان کے مطابق میانمار کی فوج کے یہ اعلیٰ افسران دو سال قبل روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں ملوث تھے جس کی وجہ سے سات لاکھ 40 ہزار لوگوں کو بنگلہ دیش کی سرحد کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔

امریکہ نے میانمار کی فوج کے سربراہ کے علاوہ جن افسران پر پابندی عائد کی ہے ان میں نائب کمانڈر ان چیف سوئے ون، بریگیڈیئر جنرل تھین او اور بریگیڈیئر جنرل اونگ اونگ شامل ہیں۔

امریکی پابندی کا اطلاق میانمار کی فوج کے چاروں افسران کے اہلِ خانہ پر بھی ہو گا۔

​یاد رہے کہ میانمار کی حکومت اقلیتی مسلم روہنگیا کمیونٹی کو شہریت دینے سے انکار کرتے ہوئے انہیں بنگالی قرار دیتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایک تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ روہنگیا نسل کشی میں میانمار کی فوج کی مرکزی قیادت ملوث ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ پہلا ملک ہے جس نے میانمار کی فوج کی سینیئر قیادت کے خلاف اعلانیہ ایکشن لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تشویش ہے کہ میانمار کی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے باوجود ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG