رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام


شمالی کوریا میں سیاسی قید خانوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جس میں تقریبا دو لاکھ کے قریب افراد کو قید رکھا گیا ہے۔

اقوام ِ متحدہ کے خصوصی تفتیشی افسر کی رپورٹ میں اقوام ِ متحدہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کرے۔

منگل کو جاری ہونے والی اقوام ِ متحدہ کے خصوصی تفتیشی افسر مارزوکی داروسمان کی رپورٹ میں انسانی حقوق کمیشن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی چھان بین کرے۔

شمالی کوریا اس رپورٹ کے شائع ہونے سے قبل ہی اس کی تردید و مذمت کر چکا ہے۔

جینوا میں پیانگ یانگ کے اقوام ِ متحدہ کے سفیر سو سی پیانگ کا کہنا تھا کہ، ’’مارزوکی داروسمان سیاسی طور پر متحرک افسر ہیں۔ وہ امریکہ، جاپان اور یورپی یونین جیسے اثررورسوخ رکھنے والے ممالک کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور ’بیمار ذہنیت و مقاصد‘ کی ترجمانی کر رہے ہیں۔‘‘

گذشتہ ماہ، اقوام ِ متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ ناوی پلے نے شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی صورتحال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے عالمی سطح پر تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا شمالی کوریا کے نیوکلئیر پروگرام اور راکٹ لانچ کے بارے میں فکر مند ہے لیکن انہیں شمالی کوریا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لینا چاہیئے۔

شمالی کوریا میں سیاسی قید خانوں کا ایک نیٹ ورک موجود ہے جس میں تقریبا دو لاکھ کے قریب افراد قید ہیں۔ ان قید خانوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والے قیدیوں کا کہنا ہے کہ ان قیدخانوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں اور قیدیوں کو اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
XS
SM
MD
LG