رسائی کے لنکس

logo-print

تیزی سے ایڈز پھیلنے والے ملکوں کی فہرست میں پاکستان بھی شامل


فائل

پاکستان ان ممالک میں میں شامل ہے جہاں سال 2019 میں ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور یہ کہ ملک میں اس مہلک مرض کے پھیلاؤ کی شرح 0.13 تک پہنچ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی ایڈز سے متعلق جائزہ رپورٹ 2019 کے مطابق، پاکستان ان گیارہ ملکوں میں شامل ہے جہاں ایڈز کے پھیلاؤ میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، سال 2010 میں پاکستان میں فی ایک ہزار مریضوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص کی شرح 0.08 فیصد تھی، جو سال 2018 میں بڑھ کر 0.11 فیصد اور رواں سال میں یہ شرح بڑھ کر 13 فیصد ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار ہے اور یہ تعداد 2015 میں ایک لاکھ 20 ہزار جبکہ 2010 میں 67 ہزار تھی۔

ایڈز سے متعلق اقوام متحدہ کی 2019 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ایڈز کو کم کرنے کی کوششوں میں کامیابی ہوئی ہے۔ تاہم، مخصوص خطوں اور ممالک میں اس کی شرح میں کمی بیشی ہوتی رہی۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے مئی کے مہینے میں پاکستان میں ایڈز کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور بتایا تھا کہ صرف 2017ء کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے 20 ہزار نئے کیس رپورٹ ہوئے، جن کی بنیاد پر پاکستان ایشیا اور بحرالکاہل خطے کا ایسا دوسرا ملک ہے جہاں ایڈز کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی اس حالیہ رپورٹ میں اس موذی بیماری کے باعث فوت ہونے والوں کی شرح بھی بتائی گئی ہے۔

سال 2010ء میں پاکستان میں اس بیماری کے باعث فوت ہونے والے افراد کی تعداد1400 تھی جو 2015 میں بڑھ کر 4700 ہوگئی، جبکہ 2018 انتہائی خطرناک رہا جہاں مرنے والوں کی تعداد 6400 تھی۔

رپورٹ کے مطابق، ملک میں نشے کے عادی افراد میں ایڈز پھیلنے کی شرح 21 فیصد، ہم جنس پرست مردوں میں یہ شرح 3.7 فیصد، خواجہ سراؤں میں یہ شرح 5.5 فیصد، جبکہ جسم فروشی میں مبتلا افراد میں یہ شرح 3.8 فیصد ہے۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر، پروفیسر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ ایڈز کی شرح بڑھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملک میں یہ مہلک مرض پھیل رہا ہے، بلکہ ان کی نظر میں، شرح میں یہ اضافہ اس بیماری میں مبتلا افراد کی رجسٹریشن کے باعث ہوا ہے۔

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کے ساتھ سماجی سطح پر منفی رویوں کی وجہ سے بھی اکثر لوگ ایڈز کی تشخیص کرانے سے گریز کرتے ہیں، جو بات نادانستہ طور پر مرض کے مزید پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔

ان کے مطابق، حالیہ دنوں میں ایڈز کے متعلق آگہی اور اس بیماری سے متعلق ذرائع ابلاغ پر رپورٹنگ کے نتیجے میں قومی ایڈز پروگرام میں نئے مریضوں کے اندراج میں اضافہ ہوا ہے۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر کہتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب دیگر ممالک میں خاطر خواہ کامیابی دیکھنے میں آ رہی ہے، پاکستان میں ایڈز کے مرض کی شرح میں اضافہ تشویش ناک ہے اور عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایڈز کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے جامع اسکریننگ اور رپورٹنگ پروگرام کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ حال ہی میں صوبہ سندھ میں لاڑکانہ کی تحصیل رتو دیرو میں بڑے پیمانے پر ایڈز کے پھیلاؤ کا ایسا ہی ایک واقعہ رپورٹ ہوا ہے، جہاں 200 کے قریب افراد میں ایڈز کی تصدیق کی گئی۔

ایڈز اور ایچ آئی وی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے مالی اور عملی معاونت کے باوجود پاکستان میں بیماری کی صورتحال مزید تشویش ناک ہوگئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG