رسائی کے لنکس

logo-print

ڈیمو کریٹک مباحثہ: کرونا وائرس سے متعلق صدر ٹرمپ کی پالیسی پر تنقید


برنی سینڈرز اور جو بائیڈن

امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیمو کریٹک پارٹی کے خواہش مند اُمیدواروں کے درمیان مباحثے میں بھی کرونا وائرس موضوع بحث رہا۔ سینیٹر برنی سینڈرز اور سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کرونا وائرس سے متعلق انتظامات پر صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اتوار کو واشنگٹن میں ہونے والے گیارہویں ڈیمو کریٹک مباحثے کا اہتمام امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کے اسٹوڈیو میں کیا گیا۔ کرونا وائرس کے پیشِ نظر مباحثے میں لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

اپنے پہلے 'ون آن ون' مباحثے میں دونوں ڈیمو کریٹک رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر ہوتے تو اس وبائی مرض سے بہتر انداز میں نمٹنے کی حکمت عملی مرتب کرتے۔

جو بائیڈن نے کہا کہ وہ نتائج پر توجہ مرکوز کریں گے جب کہ برنی سینڈرز نے کہا کہ وہ نظامِ صحت میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات لائیں گے۔ اس بحث کے دوران دونوں میں گرما گرمی بھی ہوئی۔

سینڈرز اور جو بائیڈن نے الزام لگایا کہ صدر ٹرمپ نے کرونا وائرس کے بعد امریکی عوام کی پریشانیوں میں اضافہ کیا۔ سینڈرز اور بائیڈن نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایمرجنسی نافذ کرنے سے قبل کرونا وائرس کو کم خطرہ قرار دیتے رہے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی ڈاکٹرز، سائنس دانوں اور اس وائرس کے خلاف لڑنے والے افراد کی حوصلہ شکنی کی۔

لیکن دونوں نے اس بات پر اختلاف کیا کہ وہ صدر کے طور پر اس بحران کو کس طرح سنبھالیں گے۔ البتہ دونوں اُمیدوار صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اپنے کام گنواتے رہے۔

سابق امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا کہ وہ وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے نتائج پر زیادہ توجہ مرکوز کریں گے۔ سینڈرز نے کہا کہ وہ صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے۔

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈیمو کریٹک اُمیدواروں کے پرائمری، کاکس میں زبردست کامیابیوں کے بعد سبقت رکھنے والے جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ ڈیمو کریٹک صدارتی اُمیدوار نامزد ہونے پر وہ خاتون کو نائب صدر نامزد کریں گے۔

دونوں اُمیدواروں نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
دونوں اُمیدواروں نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ "اگر میں صدر بنا تو میری کابینہ، انتظامیہ ایک ملک کی طرح نظر آئے گی۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی خاتون کو نائب صدر مقرر کروں گا۔"

بائیڈن کے اس اعلان پر برنی سینڈرز نے کہا کہ وہ بھی خاتون کو امریکہ کا نائب صدر نامزد کریں گے۔

منگل کو ریاست اوہائیو، الینوائے، فلوریڈا اور ایریزونا میں ہونے والے پرائمری کاکس کے نتائج سے جو بائیڈن کو اپنے حریف اُمیدوار برنی سینڈرز پر فیصلہ کن برتری حاصل ہونے کا امکان ہے۔

ان چار ریاستوں کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باوجود پرائمری مقررہ وقت کے مطابق آگے بڑھیں گی۔

کرونا وائرس کے باعث امریکہ بھر میں اسکولوں، ریستوراںوں کو بند اور بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ البتہ جارجیا اور لوزیانا میں شیڈول پرائمریز کو چند ہفتوں کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔

امریکہ میں اب تک کرونا وائرس کے تین ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ وائرس کے باعث 60 سے زائد ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں۔

ڈیمو کریٹک اُمیدواروں کے پرائمری کاکس میں جو بائیڈن کو سبقت حاصل ہے۔
ڈیمو کریٹک اُمیدواروں کے پرائمری کاکس میں جو بائیڈن کو سبقت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے حتمی امیدوار کا مقابلہ رواں برس تین نومبر کو ری پبلکن پارٹی کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہو گا۔

صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں شامل جو بائیڈن اب تک ڈیمو کریٹس کی جانب سے مضبوط ترین امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

جو بائیڈن مجموعی طور پر 713 اور سینڈرز کے پاس 576 ڈیلیگیٹس ہیں۔ مارچ کے اختتام تک دو تہائی مندوبین کا فیصلہ ہو جائے گا۔ صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے 4000 میں سے 1991 مندوبین حاصل کرنا ضروری ہے۔

جولائی میں ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے اجلاس کے دوران مندوبین حتمی صدارتی امیدوار کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG