رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی آرمی چیف سے امریکی سینٹ کام کمانڈر کی ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال


امریکی جنرل 17 رکنی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچے ہیں۔ جنرل باجوہ سے ملاقات میں جیو اسٹریٹجک ماحول اور علاقائی سکیورٹی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی سینٹ کام کمانڈر جنرل کنیتھ ایف میکینزی نے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں افغانستان اور کشمیر کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل میکینزی سے ملاقات راولپنڈی میں ہوئی۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہونے والی اس ملاقات میں جیو اسٹریٹجک ماحول اور علاقائی سکیورٹی کی صورت حال پر بات چیت ہوئی جبکہ افغانستان اور کشمیر بھی زیر بحث آئے۔

کمانڈر جنرل کینتھ ایف میکنزی 17 رکنی دفاعی وفد کے ہمراہ جمعے کو پاکستان پہنچے تھے۔

دو روز قبل امریکی نائب وزیر دفاع رینڈل شریور نے کہا تھا کہ پاکستان اور امریکی افواج کے مابین بہترین تعلقات ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ علاقے میں امن کے لیے پاکستان کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہیں۔

خیال رہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب افغانستان امن عمل کے حوالے سے دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کامیابی کے نزدیک تھے اور کہا جا رہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے معاہدہ ہونے والا ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کابل میں ہونے والے حملے کے بعد ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

امریکی جنرل نے پاکستان کے تربیلہ ڈیم کا بھی دورہ کیا
امریکی جنرل نے پاکستان کے تربیلہ ڈیم کا بھی دورہ کیا

امریکی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں طالبان رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والی خفیہ ملاقات کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بات شاید کسی کو بھی معلوم نہیں کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں علیحدہ علیحدہ خفیہ ملاقاتیں کرنے والے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکا آ رہے تھے۔ بدقستمی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں اور امن مذاکرات کو بھی معطل کر رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو مذاکرات میں حیثیت مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔

جنرل میکینزی 17 رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں
جنرل میکینزی 17 رکنی وفد کے ہمراہ پاکستان آئے ہیں

گذشتہ ماہ کے آغاز میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی تھی۔

ملاقات میں افغانستان کی صورت حال سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی اور پاک امریکہ مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے تعاون اور اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

اس وقت پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن کے لیے تمام تر اقدامات یقینی بنائے گا۔ امن کے فروغ کے لیے اپنی بھرپور صلاحیتیں استعمال کریں گے۔

زلمے خلیل زاد نے بھی قیام امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG