رسائی کے لنکس

امریکی وزیر صحت کا تائیوان کے دورے کا اعلان، چین کا اظہار ناراضگی


ایلکس آزر (فائل فوٹو)

امریکہ کے وزیر صحت ایلکس آزر نے چند روز بعد تائیوان کے سرکاری دورے کا اعلان کیا ہے تاہم دورے سے قبل ہی چین نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ تائیوان سے سفارتی تعلقات بڑھانے سے گریز کرے۔

امریکی محکمہ صحت کی جانب سے منگل کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر صحت کے دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں وسعت کے علاوہ عالمی وبا سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وزیر صحت نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تائیوان کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

دورے کے دوران امریکی وزیر صحت تائیوان کے حکام سے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے میڈیکل آلات کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

یہ امریکی حکومت میں شامل کسی بھی اہم وزیر کا 1979 کے بعد تائیوان کا پہلا سرکاری دورہ ہو گا۔

دورے کی حتمی تاریخ کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ چند روز میں یہ دورہ متوقع ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وینگ وینبن نے بدھ کو نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ تائیوان، امریکہ اور چین کے تعلقات میں ایک اہم اور حساس حیثیت رکھتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی تائیوان کے ساتھ تمام سفارتی اور سرکاری رابطے ترک کر دے تاکہ چین اور امریکہ کے تعلقات مزید خراب نہ ہوں۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں تجارتی معاملات اور کرونا وبا سمیت دیگر تنازعات کی وجہ سے امریکہ اور چین کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

وینگ وینبن نے کہا کہ چینی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر امریکی حکام کو اپنا باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرا دیا ہے۔

چین اور تائیوان 1949 میں خانہ جنگی کے بعد الگ ہو گئے تھے، لیکن چین اب بھی تائیوان کو اپنا جدا ہونے والا صوبہ سمجھتا ہے۔

چینی حکام مختلف مواقع پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ تائیوان کو ہر صورت چین میں ضم ہونا ہو گا چاہے اس کے لیے چین کو فوجی طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑی۔

لیکن امریکہ اس حوالے سے الگ موقف رکھتا ہے، امریکہ تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات کے علاوہ تجارت کو بھی فروغ دے رہا ہے جس پر چین ناراضگی کا اظہار کرتا رہا ہے۔

چین کی مخالفت کی وجہ سے تائیوان تاحال عالمی ادارہ صحت کا بھی رُکن نہیں بن سکا۔

XS
SM
MD
LG