رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی عرب پر فضائی حملہ، امریکہ کی مذمت


سعودی عرب نے میزائل حملے روکنے کے لیے امریکی میزائل ڈیفنس سسٹم نصب کر رکھا ہے۔

امریکہ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بظاہر مقصد شہری آبادی کو ہدف بنانا تھا۔

سعودی سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ممکنہ طور پر ایک میزائل یا ڈرون کو ریاض میں گرنے سے قبل نشانہ بنایا ہے۔ سعودی عرب نے 2015 میں بین الاقوامی اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی حکومت کو تسلیم کیا تھا، جس کے بعد سے یمن میں موجود حوثی باغیوں نے سرحد پار بہت سے حملے کیے ہیں۔

تاہم حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین حملے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہےکہ ہفتے کے روز ہونے والا حملہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس سے امن و سلامتی کو فروغ دینے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

ایک بیان میں محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ جمہوری روایات کے مطابق علاقے میں کشیدگی ختم کرنے اور یمن میں جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اپنے اتحادی ملک سعودی عرب کے خلاف کسی بھی ممکنہ حملے میں اس کے دفاع میں مدد دے گا اور ان تمام قوتوں کے خلاف کارروائی کرے گا جو علاقے کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گی۔

حوثیوں کی طرف سے یمن کے دارالحکومت ثنا پر قبضہ کرنے کے بعد سے سعودی سربراہی میں اتحاد یمن کے تنازعے میں شامل ہو گیا تھا۔ اس اتحاد پر یمن میں فضائی حملوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید سامنے آتی رہی ہے جن میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت ہوئی اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ انٹرنیشنل ریڈکراس سے مل کر یمن میں دونوں فریقین کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کیلئے تعاون کر رہا ہے۔

امریکہ کی سبکدوش ہونے والی ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے حوثیوں کو دہشت گرد گروپ قرار دیے جانے کے دو ہفتے بعد تنازعے کو حل کرنے کی تازہ ترین کوششوں کا آغاز ہوا ہے۔ صدر جو بائیڈن کے نامزد کردہ وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اپنی نامزدگی کی توثیق کے سلسلے میں ہونے والی کانگریس کی سماعت کے دوران گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ اس معاملے پر نظر ثانی کر رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG