رسائی کے لنکس

logo-print

حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر میزائل حملے، کئی ملکوں کا اظہارِ مذمت


فائل فوٹو

یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت تین شہروں پر میزائل داغے ہیں۔ جس کی مختلف ملکوں نے مذمت کی ہے۔

منگل کو کیا جانے والا میزائل حملہ گزشتہ ماہ ختم ہونے والی جنگ بندی کے بعد باغیوں کا سعودی سرزمین پر پہلا حملہ ہے۔

سعودی فوجی اتحاد نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حوثی باغیوں نے دارالحکومت ریاض اور دو جنوبی شہروں پر میزائل داغے ہیں تاہم فوجی اتحاد نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملوں کا ہدف کیا تھا۔

البتہ حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی عرب کی وزارتِ دفاع کی عمارت اور ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثی فوج کے ترجمان یحیٰ ساری نے منگل کو ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے متعدد میزائلوں اور ڈرون سے کنگ سلمان ایئر بیس اور وزارتِ دفاع کی عمارت کو نشانہ بنایا۔

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے جنوبی شہروں نجران اور جیزان میں بھی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کو لاحق خطرات کے خلاف اپنی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔

برطانیہ اور فرانس نے بھی سعودی عرب پر میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حالیہ حملے کے بعد یمن میں قیام امن سے متعلق حوثیوں کے دعوے مشکوک ہو گئے ہیں۔ برطانیہ اس حملے کی مذمت کرتا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ سعودی عرب پر کیے جانے والے حملے خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔

اُن کے بقول یمن کے تنازع کا حل جامع سیاسی معاہدہ اور بات چیت ہی ہے۔

دوسری جانب سعودی عسکری اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغی جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ منگل کو نجران اور جیزان شہر میں داغے گئے تین میزائلوں اور متعدد ڈرون کو مار گرایا گیا تاہم انہوں نے دارالحکومت ریاض پر داغے گئے میزائل کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

یاد رہے کہ یمن کے شمالی علاقوں میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومتی فورسز اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہو رہی ہیں۔

یمن کے تنازع کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان بالواسطہ جنگ (پراکسی وار) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رواں برس مارچ میں فریقین نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا جس کی مدت گزشتہ ماہ ختم ہو گئی تھی۔ اب ایک مرتبہ پھر دونوں جانب سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

حوثی باغیوں نے 2014 کے اواخر میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹتے ہوئے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا جس کے بعد سعودی عسکری اتحاد نے مارچ 2015 میں یمن میں فوجی مداخلت کی تھی۔

اقوامِ متحدہ یمن میں پانچ برس سے جاری خانہ جنگی کو بدترین انسانی المیہ قرار دے چکی ہے جس کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG