رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی عدالت نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی ملک بدری روک دی


لاس اینجلس کی عدالت کے باہر بچے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سرکاری اقدامات کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی وفاقی عدالت کے جج ڈانا سیبرو نے پیر کو اپنے حکم میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے لیے ان خاندانوں کی ملک بدری روک دے۔

امریکہ کی ایک عدالت نے حکومت کو ان غیر قانونی تارکِ وطن خاندانوں کو ملک بدر کرنے سے روک دیا ہے جن کے بچوں کو حال ہی میں ان کے والدین اور سرپرستوں کے حوالے کیا گیا تھا۔

ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کی وفاقی عدالت کے جج ڈانا سیبرو نے پیر کو اپنے حکم میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے لیے ان خاندانوں کی ملک بدری روک دے اور اس عرصے کے دوران امریکہ میں شہری حقوق کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری تنظیم کی شکایت کا جواب جمع کرائے۔

'امریکن سول لبرٹیز یونین' (اے سی ایل یو) کا کہنا ہے کہ اسے ان اطلاعات پر سخت تشویش ہے کہ امریکی حکام غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے والے بالغ افراد اور ان کے ساتھ آنے والے بچوں کو آپس میں ملانے کے فوراً بعد ملک سے بے دخل کر رہے ہیں۔

تنظیم نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان خاندانوں کے افراد کو ایک دوسرے سے ملانے کے بعد کم از کم ایک ہفتے کا وقت دیا جانا چاہیے تاکہ وہ اس دوران یہ طے کرسکیں کہ آیا وہ امریکہ میں سیاسی پناہ کے حصول کی درخواست دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔

'اے سی ایل یو' امریکی حکومت کی جانب سے امریکہ میکسیکو سرحد پر سرکاری تحویل میں لیے جانے والے غیر قانونی تارکِ وطن کے بچوں کو ان کے والدین سے فوری ملانے کے لیے عدالتی جنگ لڑ رہی ہے۔

اسی غیر سرکاری تنظیم کی درخواست پر گزشتہ ماہ جج ڈانا سیبرو کی عدالت نے حکومت کو پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو 10 جولائی تک اور ان سے بڑی عمر کے تمام بچوں کو 26 جولائی تک ان کے والدین سے ملانے کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ سماعت پر ٹرمپ حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس نے 10 جولائی کی ڈیڈ لائن تک پانچ سال سے کم عمر کے ایسے تمام بچوں کو ان کے والدین اور سرپرستوں کے حوالے کردیا تھا جن کے ملاپ میں کوئی قانونی یا اخلاقی رکاوٹ نہیں تھی۔

سرکاری وکلا نے عدالت کو بتایا تھا کہ حکومت باقی ماندہ بچوں کو بھی ان کے والدین سے ملانے کا کام تیزی سے کر رہی ہے تاکہ اس عمل کو عدالت کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن سے قبل مکمل کرلیا جائے۔

البتہ عدالت کے جج ڈانا سیبرو نے کہا تھا کہ انہیں شبہ ہے کہ حکومت جدا کیے جانے والے بچوں کو ان کے والدین سے ملانے کی عدالتی ڈیڈلائن پر نیک نیتی سے عمل کر رہی ہے۔

بعد ازاں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ حکومت بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملنے کے فوراً بعد انہیں امریکہ بدر کر رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے رواں سال مئی کے اوائل میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف 'زیرو ٹالرنس پالیسی' کا اعلان کیا تھا۔

اس نئی پالیسی کے تحت بلا اجازت سرحد پار کرنے والے خاندانوں کے بالغ افراد کو جیل بھیجا جارہا تھا جب کہ ان کے ساتھ آنے والے بچوں کو حکومت کی نگرانی میں چلنے والے کیمپوں میں رکھا گیا تھا۔

اس پالیسی کے تحت اپریل کے آخر سے جون کے وسط تک کل 2300 بچوں کو ان کے والدین یا سرپرستوں سے جدا کیا گیا۔

بعد ازاں اندرون و بیرونِ ملک ہونے والے سخت احتجاج کے بعد ٹرمپ حکومت نے 20 جون کو یہ پالیسی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لیکن یہ پالیسی ختم کیے جانے کے باوجود اب بھی سیکڑوں ایسے بچے سرکاری کیمپوں میں موجود ہیں جنہیں تاحال ان کے والدین یا سرپرستوں کے حوالے نہیں کیا جاسکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG