رسائی کے لنکس

logo-print

صدر ٹرمپ کی ایک بار پھر افغانستان سے فوج کے جلد انخلا کی ہدایت


امریکی محکمۂ دفاع کے سینئر افسر کے مطابق کرونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر کمانڈرز فوجیوں کے انخلا کا عمل تیز کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

امریکی افواج نے شیڈول سے قبل افغانستان سے انخلا پر غور شروع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی محکمۂ دفاع کو ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ وہ فوجیوں کی واپسی کے لیے اقدامات کرے۔

نیوز رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے حکام نے بدھ کو بتایا ہے کہ طالبان سے ہونے والے معاہدے میں طے کردہ وقت سے قبل افغانستان سے فوج کے انخلا پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے سینئر افسر کے مطابق کرونا وائرس کے خطرے کے پیشِ نظر کمانڈرز فوجیوں کے انخلا کا عمل تیز کر رہے ہیں۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ قبل از وقت فوجیوں کے انخلا کا عمل کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کے باعث کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق افغانستان سے فوجیوں کی واپسی کے لیے ان کی صحت اور عمر کو ترجیح دی جائے گی۔

یاد رہے کہ رواں برس فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جولائی کے وسط تک امریکہ کو افغانستان میں فوجیوں کی تعداد 12 ہزار سے کم کر کے 8600 پر لانا تھی جس کے بعد مئی 2021 سے قبل مکمل فوجی انخلا یقینی بنانا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان میں فوجیوں کی تعداد فوری طور پر گھٹا کر سات ہزار کر دی جائے گی۔

اپنے اس بیان کے اگلے روز معمول کی بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ امریکہ کو افغانستان میں پولیس فورس کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ فوجیوں کو اپنے ملک کی خدمت کے لیے بلایا جائے۔

صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے ایک ٹوئٹ میں بھی کہا کہ ہم افغانستان میں لڑاکا فورس کی طرح نہیں بلکہ پولیس فورس کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنی افواج کو واپس لائیں لیکن یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑے تو ایسی کارروائی کی جائے جو پہلے کبھی نہ کی گئی ہو۔

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل تھامس کیمبیل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سیکیورٹی صورتِ حال میں بہتری اور طالبان معاہدے کی پاسداری کریں گے تو افغانستان سے فوجی انخلا اسی صورت میں مکمل ہو گا۔

یاد رہے کہ طالبان کی جانب سے عید الفطر پر جنگ بندی کے دوران ملک بھر میں تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ البتہ بدھ کو زابل صوبے میں افغان سیکیورٹی فورسز کی فضائی کارروائی میں 18 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے شاہ جوئے ڈسٹرکٹ میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا جس کے جواب میں کارروائی کی گئی ہے۔ تاہم حکام نے یہ نہیں بتایا کہ کس عسکری گروپ نے سیکیورٹی قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائی میں شہریوں کو نشانہ بنایا ہے اور اس کارروائی میں چار بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG