رسائی کے لنکس

logo-print

چک ہیگل کا قیدیوں کے تبادلے کا دفاع


افغانستان میں بگرام ائیر بیس آمد پر چک ہیگل نے اپنے ایک بیان میں توقع کا اظہار کیا کہ قیدیوں کے تبادلے سے دہشت گردوں سے تعلقات میں مدد ملے گی

امریکہ کے وزیر دفاع چک ہیگل نے اپنے ایک فوجی کی رہائی کے بدلے پانچ افغان عسکریت پسندوں کو چھوڑنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

امریکی قوانین کے مطابق اس طرح کے فیصلے میں کانگریس کو پہلے سے اس بارے میں بتانا ہوتا ہے لیکن اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

تاہم اس کے باوجود چک ہیگل نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ عہدیداروں کو خدشہ تھا کہ سارجنٹ بووی برگڈل خطرے میں ہیں۔

چک ہیگل کا کہنا تھا کہ اسی خدشے کے باعث کیوبا میں گوانتاناموبے جیل سے افغان قیدیوں کی رہائی سے قبل کانگریس کے رہنماؤں کو آگاہ نہیں کیا جا سکا۔ قانون کے مطابق ایسے کسی بھی فیصلے سے 30 روز پہلے کانگریس کا آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔

افغانستان میں بگرام ائیر بیس آمد پر چک ہیگل نے اپنے ایک بیان میں توقع کا اظہار کیا کہ قیدیوں کے تبادلے سے دہشت گردوں سے تعلقات میں مدد ملے گی۔

گوانتاناموبے سے رہا کیے گئے پانچ افغانوں کو قطر کے حوالے کر دیا گیا ہے تاہم معاہدے کے بعد اُنھیں ایک سال تک قطر ہی میں تحویل میں رکھا جائے گا۔

واشنگٹن میں حزب مخالف کے بعد رہنماؤں نے برگڈل کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم اس کے عوض قیدیوں کی رہائی کی شرائط پر تنقید کی ہے۔
بووی برگڈل
بووی برگڈل
بووی برگڈل کو افغانستان سے جرمنی میں امریکی فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

امریکی فوجی کی رہائی کے بعد ہفتہ کے روز صدر براک اوباما نے برگڈل کے والدین کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں کہا تھا کہ ’’فوجی کو اُس کے ملک کے طرف سے بھلایا نہیں گیا‘‘ اور امریکہ ’’یونیفارم میں اپنے مرد اور خواتین کو تنہا نہیں چھوڑتا۔‘‘

صدر اوباما نے گزشتہ ہفتے ہی کہا تھا کہ 2014ء کے اختتام کے بعد افغانستان سے دوطرفہ سکیورٹی معاہدے طے پانے کی صورت میں وہاں صرف 9,800 فوجی تعینات ہوں گے جن کا کام افغان فورسز کی معاونت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت ہو گی۔

جب کہ 2016ء کے اختتام تک امریکی فوجیوں کی تعداد افغانستان میں ایک ہزار سے بھی کم ہو گی۔

برگڈل کو پاکستانی سرحد کے قریب پرامن طور پر امریکہ کی اسپیشل فورسز کے حوالے کیا گیا۔

28 سالہ بووی برگڈل کو 30 جون 2009ء کو افغانستان سے اغواء کیا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG