رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر اعظم کے دورۂ امریکہ میں ’ڈو مور‘ کی بات نہیں ہوئی: دفتر خارجہ


دفتر خارجہ کے ترجمان ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران۔ (فائل فوٹو)

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت ملی ہے اور اس دورے میں اُن کے بقول ‘‘ڈو مور کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔’’

دفتر خارجہ کے ترجمان نے یہ بات جمعرات کو معمول کی بریفنگ کے دوران وزیر اعظم عمران کے رواں ہفتے ہونے والے امریکہ کے دورے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔

ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور قانون سازوں کے گروپ سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے بقول، امریکہ نے پاکستان کو ’ڈو مور‘ کا نہیں کہا۔ دونوں ممالک باہمی مفادات کا خیال کرتے ہیں اور یقیناً ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اسی کو سفارت کاری کہتے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ ماضی میں افغان تنازع کے حل اور پاکستان میں موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ تاہم، حالیہ کچھ عرصے میں امریکہ کی طرف سے ایسے مطالبات کا ذکر کھلے عام کم دیکھنے میں آیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کا دورۂ امریکہ نہایت کامیاب رہا ہے اور اس کے توقعات سے زیادہ نتائج سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2015 کے بعد اعلیٰ سطح کا یہ پہلا دورہ تھا جو ایک کامیاب دورہ ہے۔ امریکہ کے ساتھ اتنی مثبت بات چیت ایک عرصے سے نہیں ہوئی ہے اور اب پاک امریکہ تعلقات کو نئی جہت پر استوار کرنے کا کام شروع ہو چکا ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیش کش سے مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں مدد ملی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل کے بقول، بھارت ہم سے نہ تو باہمی سطح پر بات چیت کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کے تحت بات کرنا چاہتا ہے۔ شاید امریکی صدر کے کہنے پر وہ ایسا کر لے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آگے بڑھنے کا راستہ گفتگو اور بات چیت ہے۔ اگر یہ بات بھارت کی سمجھ میں آ جائے تو ہم آگے بڑھ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اُنہیں کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا کہا تھا۔ تاہم، بھارت کا مؤقف ہے کہ وزیر اعظم مودی نے ایسی کوئی درخواست نہیں کی۔

بھارت مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ معاملہ قرار دیتے ہوئے اس پر ثالثی یا کسی تیسرے فریق کو شامل کیے جانے کی مخالفت کرتا آیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اور طالبان نمائندوں کے درمیان متوقع ملاقات سے متعلق سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہی اس معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جسے امریکہ سمیت سب نے تسلیم کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے دورۂ امریکہ کے دوران کہا تھا کہ وہ وطن واپس جا کر طالبان کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور اُنہیں افغان حکومت سے بات چیت پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں تیل کے ٹینکروں پر حالیہ مبینہ حملوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان صورت حال کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔ اُن کے بقول، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کی سکیورٹی نہایت اہم ہے اور تمام فریقین کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG