رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا افغان طالبان پر رمضان میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر زور


زلمے خلیل نے افغان طالبان پر رمضان میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین اپنی توانائی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے پر صرف کریں۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل نے افغان طالبان پر رمضان میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام فریقین اپنی توانائی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے پر صرف کریں۔ تاہم طالبان نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔

زلمے خلیل زاد نے اتوار کو متعدد ٹوئٹس میں افغان طالبان پر جنگ بندی پر زور دیا۔ انہوں نے یہ ٹوئٹس ایک ایسے وقت میں کی ہیں جب افغانستان میں تشدد میں اضافے کی وجہ سے کرونا وائرس کے سبب صحت عامہ کے بحران کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے نمائندہ خصوصی سے پہلے مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' اور افغان صدر اشرف غنی بھی طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغان عوام اور ان کے ملک کی بھلائی اسی میں ہے کہ تمام فریقین اپنی تمام توانائی کرونا وائرس کے خلاف لڑنے پر صرف کریں۔

ان کے بقول کرونا وائرس سب کا مشترکہ دشمن ہے۔

خلیل زاد نے کہا کہ جمعے کو شروع ہونے والا رمضان کا مہینہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ ملک کے مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر مقدم رکھیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ہونے والے افغان صدارتی انتخابات میں دونوں رہنماؤں نے اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کیا تھا ۔ اگرچہ افغانستان کے الیکشن کمیشن نے غنی کو کامیاب قرار دیا تھا لیکن گزشتہ ماہ غنی اور عبداللہ نے الگ الگ صدارتی تقریبات کا انعقاد کیا جس کی وجہ سے کابل میں ایک سیاسی تنازع پیدا ہو گیا جو افغان امن کوششوں کے لیے کسی طور مفید نہیں ہے۔ اسی لیے امریکہ اور اتحادی ممالک افغان سیاسی قیادت پر ایک جامع حکومت قائم کرنے زور دیتے آرہے ہیں۔

امریکہ سفارت کار نے کہا کہ اسی طرح رمضان طالبان کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر تشدد میں کمی کے لیے جنگ بندی کو اس وقت تک قبول کرلیں جب تک صحت کا بحران ختم نہیں ہو جاتا۔

افغانستان میں کرونا وائرس اور صحت عامہ کے مسائل کی وجہ سے بین الاقوامی برداری بشمول اقوام متحدہ طالبان پر جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں تاکہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے صحت عامہ کے اہلکار اور امدادی ادارے اپنا کام پرامن ماحول میں کر سکیں۔

دوسری جانب طالبان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ متعدد تنظیمیں اور افغان حکومت طالبان سے بار بار جنگ بندی کا اعلان اور تشدد میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن طالبان یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وہ قیام امن اور تنازع کےخاتمے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

طالبان کے مطابق 29 فروری کو طے پانے والے اس معاہدے میں یہ واضح تھا کہ 10 دن میں افغان حکومت اور طالبان قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات کا راستہ کھل جائے گا۔

طالبان کے مطابق اگر بین الافغان مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہوتا تو افغانستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ لڑائی لا خآتمہ ہو چکا ہوتا اور اب تک کافی پیش رفت ہو چکی ہوتی۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ کابل حکومت کا مفاد جنگ جاری رکھنے میں ہے۔ اس لیے وہ پہلے دن ہی سے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

ان کے بقول قیدیوں کی رہائی میں مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے جب کہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے حکومت بین الافغان مذاکرات کے لیے جامع ٹیم تشکیل نہیں دی سکی ہے۔

طالبان ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور افغان حکومت دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے ہیں۔ ایسے میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنا غیر منطقی اور موقع پرستی ہے۔

یاد رہے کہ افغان حکومت اب تک 550 طالبان قیدیوں رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان افغان حکومت کے 60 قیدی رہا کر چکے ہیں۔

حال ہی میں مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد (نیٹو) نے افغان طالبان سے کہا تھا کہ وہ تشدد میں کمی لائیں اور کسی تاخیر کے بغیر امن مذاکرات میں شامل ہوں۔

نیٹو نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کا عمل تیز کرنے بھی زور دیا ہے۔

نیٹو نے کابل حکومت سے بین الافغان مذاکرات کے لیے ایک جامع ٹیم تشکیل دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا کہ وہ کسی تاخیر کے بغیر اس ٹیم کے ساتھ مذاکرات شروع کریں۔

امریکہ، طالبان معاہدے پر دستخط
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:38 0:00

تاہم طالبان کا کہنا ہے کہ وہ دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کے مطابق امن و سلامتی کی طرف پیش رفت کے خواہاں ہیں۔ یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے طالبان اور امریکہ جنگ کا ختم کر سکتے ہیں جب کہ افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ اور قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کے تحت ہونے والی پیش رفت میں تاخیر ہو رہی ہے۔

افغانستان کی قومی سلامتی کے دفتر کے ترجمان جاوید فیصل نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 فروری کو امن معاہدے پر دستخط ہونے سے کر 20 اپریل تک طالبان نے افغانستان میں 2804 سے زائد دہشت گردی کی کارروئیاں کی ہیں یعنی یومیہ 55 حملے کیے گئے۔

ان کے بقول یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ طالبان امن کے لیے کچھ نہیں کر رہے ہیں اور وہ افغان قوم کے خلاف دہشت کی مہم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فیصل جاوید نے ہفتے کو ٹوئٹ میں کہا کہ اس دوران طالبان نے میبنہ طور پر 789 عام افغان شہریوں کو ہلاک یا زخمی کیا۔ طالبان نے بظاہر عام شریوں کے خلاف مہم کو تیز کر دیا ہے۔

ان کے بقول امریکہ طالبان معاہدے کے بعد گزشتہ ہفتہ مہلک ترین رہا جس دوران طالبان نے ملک کے 17 صوبوں میں مبینہ طور 34 عام شہریوں کو ہلاک اور 62 کو زخمی کیا۔

فیصل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ29 فروری سے افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کی پھرپور جوابی کارروائیوں کے دوران 2700 سے زائد طالبان ہلاک یا زخمی ہوئے۔

ان کے بقول صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوان افغان سیکیورٹی فورسز نے 309 طالبان کو ہلاک اور 210 کو زخمی کیا ہے۔

طالبان کی طرف سے افغان سلامتی کونسل کے دعوے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں رواں سال افغان سیکیورٹی فورسز پر ان کے حملوں میں کمی آئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG