رسائی کے لنکس

logo-print

یورپی یونین اور چین کے درمیان معاہدے پر ناقدین کے کیا تحفظات ہیں؟


ایک چینی پیرا ملٹری پولیس افسر یورپین یونین کے وفد کے اجلاس کے دوران

چین اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے ایک سرمایہ کاری معاہدے کی نئی تفصیلات سے پتہ چلا ہے کہ اس کے نتیجے میں یورپی ملک چین کے میڈیا اداروں اور اینٹرٹینمنٹ کمپنیوں میں سرمایہ کاری نہیں کر سکیں گے، لیکن چینی کمپنیوں کو یورپ میں ایسی کسی پابندی کا سامنا نہیں ہوگا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں، جب یورپ میں چین کی جانب سے غلط معلومات اور پراپیگنڈا مہمات کے بارے میں پہلے ہی تحفظات موجود ہیں، یورپ اور چین کے درمیان طے پانے والا معاہدہ 'کمپریپینسو ایگریمنٹ آن انویسٹمنٹ پیکٹ'، جس کا اعلان جمعے کے روز کیا گیا، چینی کمپنیوں کو میڈیا کے شعبے میں غیر معمولی فوائد مہیا کرے گا۔

اس معاہدے پر اصولی طور پر گزشتہ سال دسمبر میں دستخط ہوئے تھے، جس پر امریکہ نے کڑی تنقید کی تھی۔ معاہدے پر دستخط سے پہلے، امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے یورپی یونین کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس معاہدے پر مذاکرات کو موخر کر دیں۔ انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ امریکہ اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ جلد ہی مشاورت کا خواہاں ہے تا کہ چین کی معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے مشترکہ خدشات پر بات چیت ہو سکے۔

تاہم ابھی اس معاہدے کو یورپی پارلیمان کی منظوری اور توثیق سے پہلے کئی مراحل سے گزرنا ہے۔ میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق قواعد و ضوابط پر چند یورپی قانون سازوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان میں زیادہ تر یورپین پیپلز پارٹی کے ارکان شامل ہے جو کہ یورپی پارلیمان میں سب سے بڑا گروپ ہیں۔

یورپی پیپلز پارٹی نے اپنے ایک بیان میں یورپی کمیشن کے ارکان پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی یونین میں ایک ایسے ریگولیٹری نظام کی ترویج کریں جو یورپ کی میڈیا کمپنیوں کو غیر ملکی حکومتی سرمایہ کاری سے محفوظ رکھیں۔

چین نے گزشتہ دس برسوں کے دوران یورپ کی میڈیا کمپنیوں میں 3.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یورپی یونین کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری سے متعلق معاہدہ، چین اور یورپی یونین کے درمیان ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی شرائط پر اتفاق کے بعد، رسائی سے متعلق ضوابط کو تحفظ دے رہا ہے۔

یورپی کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ چین کے سرمایہ کاروں کو میڈیا سیکٹر میں نئے حقوق نہیں دے رہا۔ شرائط کے تحت میڈیا کمپنیوں کے چینی سرمایہ کاروں سے بھی ویسا ہی سلوک کیا جائے گا جیسا یورپی سرمایہ کاروں سے کیا جاتا ہے، اور انہیں ویسی ہی رسائی حاصل ہو گی۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ یورپی سرمایہ کاروں کو چین میں ویسے ہی حقوق نہیں دے رہا جو چینی سرمایہ کاروں کو یورپ میں حاصل ہیں۔

یورپی پارلیمان میں فرانس کی ایک لبرل قانون ساز مری پیئر ویڈرن کہتی ہیں کہ یورپی یونین تو چین کو ایک شراکت دار کے طور دیکھ رہا ہے، لیکن چین ویسا ہی کردار یورپی یونین کو نہیں دے رہا۔ بعض قانون ساز ایسی سٹڈیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کہ جب مغربی میڈیا میں چین کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری بڑھتی ہے، تو چین کے بارے میں ان اداروں کی کوریج 'مثبت' ہو جاتی ہے۔

یورپی یونین کے گیارہ ارکان کو، جن میں پولینڈ، سلوواکیہ اور چیک ریپبلک سمیت زیادہ تر وسطی یورپ کے ممالک شامل ہیں،معاہدے کے حوالے سے تحفظات ہیں، اور وہ چاہتے ہیں کہ چین کے سرمایہ کاروں سے کسی دوسرے ملک کے سرمایہ کاروں کے برعکس یا مختلف رویہ اختیار کیا جائے۔

چین یورپی یونین کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ گزشتہ بیس برس کے دوران، یورپی یونین کی کمپنیوں نے چین میں 174 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری معاہدے سے یورپی کمپنیوں کو چین کی منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو گی اور زیادہ شفاف ضوابط کا سامنا ہو گا۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ چین کا سرکاری سی سی ٹی وی چینل یورپ میں بلا کسی رکاوٹ دکھایا جا رہا ہے، لیکن یورپی براڈ کاسٹنگ اداروں کو چین میں پابندیوں کا سامنا ہے۔ گزشتہ مہینے چین نے بی بی سی ورلڈ سروس پر ژنجیانگ میں ویغور مسلمانوں کے بارے میں بعض رپورٹس دکھانے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے اس اقدام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے ، اسے میڈیا کی آزادی کے لئے نقصان دہ قرار دیا تھا۔

امریکی دفترِ خارجہ نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے چین میں میڈیا کی آزادی کو دبانے کی ایک وسیع تر مہم قرار دیا تھا۔

چین کے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن انتظامیہ نے بی بی سی ورلڈ نیوز پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے نشریاتی رہنما اصولوں کی سنگین ورزی کی ،اوراپنی نشریات میں چین کے قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کسی خبر کے سچا اور شفاف ہونے کا خیال نہیں رکھا گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے چین کے ساتھ ہونے والے سرمایہ کاری معاہدے کی تفصیلات بائیڈن انتظامیہ کے لئے مایوسی کا باعث بنیں گی، کیونکہ صدر بائیڈن چین کے مقابلے میں یورپی ملکوں اور امریکہ کے درمیان ایک متحد موقف اپنانے کے خواہش مند ہیں۔

تجزیہ کار کچھ عرصہ سے متنبہ کر رہے ہیں کہ یورپی یونین اور بائیڈن انتظامیہ چین کے جارحانہ عزائم سے نمٹنے کے حوالے سے ایک دوسرے سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔

XS
SM
MD
LG