رسائی کے لنکس

logo-print

ری پبلکن امیدواران کے مابین 'سپر ٹیوز ڈے' پہ سخت مقابلہ متوقع


امریکی سیاست میں 'سپر ٹیوزڈے' کے نام سے معروف اِس دن 10 ریاستوں میں ری پبلکن کارکنان اپنے 437 نمائندگان کا انتخاب کریں گے جو اگست میں ہونے والے ری پبلکن کنونشن میں شریک ہوکر پارٹی کے صدارتی امیدوار کو منتخب کریں گے

آئندہ صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن امیدوار کے چناؤ کا ایک بڑا معرکہ آئندہ منگل کو منعقد ہونے جارہا ہے جب بیک وقت امریکہ کی 10 ریاستوں میں 'پرائمری' یا 'کاکس' کے ووٹ ڈالے جائیں گے۔

امریکی سیاست میں 'سپر ٹیوزڈے' کے نام سے معروف اس دن 10 ریاستوں میں ری پبلکن کارکنان اپنے 437 نمائندگان کا انتخاب کریں گے جو اگست میں ہونے والے ری پبلکن کنونشن میں شریک ہوکر پارٹی کے صدارتی امیدوار کو منتخب کریں گے۔

ری پبلکن کا چنیدہ امیدوار نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کا مقابلہ کرے گا جو عہدہ صدارت کی دوسری چار سالہ مدت کے حصول کے لیے میدان میں ہیں۔

چوں کہ 'سپر ٹیوز ڈے' پہ سب سے زیادہ ریاستوں میں بیک وقت پرائمری ووٹنگ ہوتی ہے لہذا نامزدگی کی دوڑ کے شرکا کے لیے اس کے نتائج بھی خاصے اہم ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ری پبلکن کی نامزدگی کے حصول کی دوڑ میں سرِ فہرست دونوں امیدواران میساچوسٹس کے سابق گورنر مٹ رومنی اور پینسلوانیا سے سابق سینیٹر رک سینٹورم اس روز زیادہ زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

رومنی اس سے قبل ایریزونا اور مشی گن میں ہونے والے پرائمری انتخاب میں فتح حاصل کرچکے ہیں اور 'سپر ٹیوز ڈے' میں کامیابی حاصل کرکے خود کو ری پبلکن کی نامزدگی کے اہل ترین امیدوار ثابت کرنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔

امکان ہے کہ رومنی اپنی آبائی ریاست میساچوسٹس سمیت ورمونٹ اور ورجینیا میں بھی اکثریت حاصل کرلیں گے جہاں صرف وہ اور ٹیکساس سے رکنِ کانگریس رون پال بنیادی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل قرار پائے ہیں۔

لیکن انہیں دیگر کئی ریاستوں میں اپنے حریف رک سینٹورم سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔

سینٹورم نے اپنی توجہ ٹینیسے اور اوکلوہاما پر مرکوز کر رکھی ہے جب کہ اوہائیو بھی ان کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے جہاں ہونے والے ایک حالیہ جائزے کے مطابق انہیں رومنی پر معمولی برتری حاصل ہے۔

مقابلے کے تیسرے شریک امریکی ایوانِ نمائندگان کے سابق اسپیکر نیوٹ گنگرچ پر امید ہیں کہ وہ اپنی آبائی ریاست جارجیا میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن فی الحال اصل مقابلہ بظاہر رومنی اور سینٹورم کے درمیان ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔

ایک اور امیدوار ٹیکساس سے رکنِ کانگریس رون پال ہیں جنہیں امید ہے کہ وہ بعض چھوٹی ریاستوں، مثلاً ایڈاہو، الاسکا اور شمالی ڈکوٹا سے اچھے ووٹ لے اڑیں گے۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ منگل رومنی کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور خود کو کا سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا ایک سنہری موقع ہوگا۔

لیکن تجزیہ کاروں کی اکثریت کو امید ہے کہ اس منگل کو ہونے والی ووٹنگ میں منقسم نتائج سامنے آئیں گے۔ اندازوں کے مطابق 10 ریاستوں میں سے بعض میں رومنی، اور بعض میں سینٹورم جیت جائیں گے جب کہ چند ریاستوں میں گنگرچ بھی سرِ فہرست امیدوار کے طورپر سامنے آسکتے ہیں۔

اس وقت ری پبلکن کنونشن کے لیے نامزد ریاستی نمائندگان کا پلڑا رومنی کے حق میں ہے جنہیں 160 سے زائد نمائندگان کی حمایت حاصل ہے۔ لیکن ری پبلکن جماعت کا صدارتی امیدوار بننے کے لیے 1144 نمائندوں کی حمایت درکار ہے جس کا مطلب ہے کہ 'سپر ٹیوز ڈے' کے بعد بھی بنیادی انتخابات میں گرما گرمی رہے گی۔

XS
SM
MD
LG