رسائی کے لنکس

logo-print

فلسطینیوں کو اسرائیل کے ساتھ امن سمجھوتا تسلیم کرنا چاہیے: ہیلی


اُنھوں نے کہا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ ہم کڑوے سچ کا سامنا کریں: امن سمجھوتے سے دونوں فریق کو بہت فائدہ ہوگا، لیکن فلسطینیوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا، جب کہ اسرائیل کو بہت کچھ دینا ہوگا‘‘

اقوام متحدہ میں سبکدوش ہونے والی امریکی سفیر، نِکی ہیلی نے فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ امن سمجھوتا تسلیم کریں، یہ کہتے ہوئے کہ ’’اِس سے اسرائیل سے زیادہ خود اُنھیں فائدہ ہوگا‘‘۔

ہیلی نے یہ بات مشرقِ وسطیٰ کے معاملے پر منگل کو سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس میں آخری بار شرکت کے دوران کہی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’وقت آگیا ہے کہ ہم کڑوے سچ کا سامنا کریں: امن سمجھوتے سے دونوں فریق کو بہت فائدہ ہوگا۔ لیکن فلسطینیوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوگا، جب کہ اسرائیل کو بہت کچھ دینا پڑے گا‘‘۔

ہیلی نے ساتھی سفیروں کو بتایا کہ ’’اسرائیل پھل پھول رہا ہے، مضبوط اور خوش حال ہو رہا ہے‘‘۔

بقول اُن کے، ’’اُس نے ہمیشہ یہی چاہا ہے کہ ہمسایوں کے ساتھ امن رہے۔ امن کی خاطر اُس نے واضح طور پر بڑی قربانیوں پر آمادگی کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں زمین کا وسیع علاقہ دینا شامل ہے۔ لیکن، اسرائیل امن سمجھوتے کے عوض کوئی قیمت ادا نہیں کرے گا، اور اُسے ایسا کرنا بھی نہیں چاہیئے‘‘۔

ہیلی اسرائیل کی کھل کر وکالت کرتی ہیں۔ فلسطینیوں کے بارے میں اُنھوں نے کہا کہ ’’میرا ریکارڈ دیکھتے ہوئے، شاید یہ گمان کیا جائے کہ میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی نہیں رکھتی؛ یہ بات سچ پر مبنی نہیں ہوگی۔‘‘

امریکی ایلچی نے فلسطینیوں کے لیے کہا کہ وہ فخر کرنے والے لوگ ہیں، اور اسرائیلیوں کی طرح وہ کسی قیمت کے عوض امن سمجھوتا قبول نہیں کریں گے۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ’’لیکن، فلسطینی عوام کی حالت زیادہ مختلف نہیں ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG