رسائی کے لنکس

logo-print

ہانگ کانگ مظاہرین کی حمایت میں امریکی ایوان نمائندگان کی قانون سازی


ہانگ کانگ میں لوگ جمیوریت کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

امریکی کانگریس کے اراکین آئندہ ہفتے ہانگ کانگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف قانون سازی کا عمل شروع کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد ہانگ کانگ میں طویل عرصے کے لئے جمہوری روایات کی حمایت جاری رکھنا ہے۔

بل کی مںظوری کی صورت میں صدر ٹرمپ کو میگ نٹسکی ایکٹ استعمال کرتے ہوئے ہانگ کانگ اور چینی حکام کے خلاف پابندیاں لگانے کا اختیار مل جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مظاہرین کو امریکہ آنے کے لئے ویزوں کے حصول سے انکار نہ کیا جائے اور یہ کہ ہانگ کانگ امریکی پابندیوں اور قوانین پر پوری طرح عمل کرتا ہے۔

ہانگ کانگ جمہوریت نواز تحریک کے چند کلیدی مظاہرین اس ہفتے کیپٹل ہل میں موجود ہیں جہاں وہ امریکی کانگریس کے اراکین پر زور دیں گے کہ وہ اس قانونی سازی کے لئے سرگرمی سے کام کریں۔

ان مظاہرین میں سے ایک ڈینس ہو کا کہنا ہے کہ وہ حمایت کے لئے کانگریس کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ ہانگ کانگ کے لوگوں کے لئے ایک پیغام ہے کہ ہم اس جدو جہد میں تنہا نہیں ہیں۔

ہانگ کانگ کے لئے حمایت میں غیر معمولی طور پر ڈیموکریٹک اور رپبلکن ارکان دونوں شامل ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اہل کار نے بدھ کے روز سینیٹ کے ایک پینل بتایا کہ امریکہ ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز مظاہرین کی حمایت کی کوششوں میں بڑی حد تک کامیاب ہو چکا ہے۔

کئی ماہ کے مظاہروں کے بعد ہانگ کانگ کے مظاہرین نے انتظامیہ کو وہ بل واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا جس کے تحت جرائم کے الزامات پر ہانگ کانگ کے افراد کو مقدمے چلانے کے لئے چین بھیجا جا سکتا تھا۔

ہانگ کانگ کی چیف ایگذیکٹو کری لام نے یہ بل واپس لے لیا ہے۔ تاہم انہوں نے مظاہرین کے دیگر مطالبات منظور نہیں کیے جن میں گرفتار مظاہرین کے لئے عام معافی اور پولیس کے تشدد کے خلاف تحقیقات شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG